Screenshot
سیوتا میں حالیہ مہاجر بحران کے دوران سمندر سے ملنے والی 82 افراد کی لاشوں کے پوسٹ مارٹم مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں سے 6 افراد کی شناخت بھی ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ تمام افراد اسپین کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں ایک خاتون کے علاوہ باقی سب مرد تھے۔
سیوتا کے انسٹی ٹیوٹ آف لیگل میڈیسن (IML) نے بتایا کہ آخری دو پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد قومی سطح کا میڈیکو-فارنزک اور پولیس پروٹوکول ختم کر دیا گیا ہے، جو اس بحران کے باعث نافذ کیا گیا تھا۔
پہلی لاش 29 جولائی کو ملی جبکہ دوسری 30 جولائی کی صبح ملی، اور اسی دن بڑی تعداد میں مہاجرین نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد مجموعی طور پر 82 لاشیں سمندر سے نکالی گئیں۔
اب تک 3 افراد کی شناخت فنگر پرنٹس کے ذریعے اور 3 کی حیاتیاتی (ڈی این اے) ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی ہے۔ مزید 3 افراد کی شناخت کے لیے بھی ڈی این اے ٹیسٹ جاری ہے۔ شناخت شدہ تمام افراد بالغ مراکشی مرد ہیں۔
تمام لاشوں سے فنگر پرنٹس اور حیاتیاتی نمونے جمع کیے گئے ہیں تاکہ ان کا اہل خانہ سے موازنہ کیا جا سکے۔
ہر شناخت کو عدالت کی منظوری درکار ہوتی ہے، چاہے وہ فنگر پرنٹس سے ہو یا ڈی این اے سے۔ باقی افراد کی شناخت کے لیے مراکش کو بھی فنگر پرنٹس بھیجے جائیں گے۔
اس عمل میں مختلف شہروں سے آنے والے فارنزک ڈاکٹرز اور تکنیکی عملہ شامل رہا، جبکہ بعد میں عملے کی تبدیلی بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ نفسیات دان اور سوشل ورکرز نے بھی حصہ لیا۔
گواردیا سول (پولیس) نے ایک خصوصی دفتر قائم کیا ہے جہاں لاپتہ افراد کے اہل خانہ شکایت درج کروا سکتے ہیں اور ڈی این اے نمونے دے سکتے ہیں۔ اب تک 19 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔
تمام معلومات ایک مرکزی ڈیٹا سینٹر میں جمع کی جا رہی ہیں تاکہ شناخت کے عمل کو مکمل کیا جا سکے۔ عدالت ہر لاش کے لیے الگ کیس کھولتی ہے اور شناخت کے بعد لواحقین کو اطلاع دی جاتی ہے، جبکہ اگر کوئی دعویدار نہ ہو تو تدفین کی اجازت جاری کر دی جاتی ہے۔
سیوتا میں اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عدالت اور سیکیورٹی فورسز کی نفری میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
