Screenshot
سیوتا میں مہاجرین کے بحران کے دوران اسپین نے اٹلی سے آنے والے مسافروں کے لیے سرحدی کنٹرول نافذ کر دیے ہیں۔ یہ اقدامات ہفتہ 8 اگست کی رات 12 بجے سے شروع ہوئے ہیں اور ابتدائی طور پر 7 ستمبر تک جاری رہیں گے۔
میڈرڈ کے باراخاس ایئرپورٹ اور بارسلونا کے ایل پراٹ ایئرپورٹ پر پولیس نے اٹلی سے آنے والے مسافروں کی جانچ شروع کر دی ہے۔ بعض مسافروں کے مطابق جن افراد کے پاس قومی شناختی کارڈ (DNI) نہیں تھا، انہیں الگ کمرے میں لے جا کر شناخت کی تصدیق کی گئی۔
وزارت داخلہ کے مطابق سرحدی کنٹرول ٹیمیں موقع پر فیصلہ کریں گی کہ پورے جہاز کے مسافروں کی چیکنگ کرنی ہے یا صرف چند افراد کی۔ یہ چیکنگ مسافروں کے ڈیٹا (PNR) کی بنیاد پر بھی کی جا سکتی ہے۔
بارسلونا میں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ “ہم صرف ان مسافروں کی جانچ کریں گے جن پر شک ہوگا، خاص طور پر وہ جو یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور اسپین میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔”
یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب اٹلی نے سیوتا میں مہاجرین کے بحران کے بعد اسپین سے آنے والوں پر عائد اپنے کنٹرول ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے جواب میں اسپین نے بھی شینگن بارڈر کوڈ کے تحت عارضی کنٹرول نافذ کر دیے ہیں۔
دوسری جانب سیوتا میں صورتحال بدستور سنگین ہے، جہاں تقریباً 72 ہزار افراد کی غیر قانونی آمد کے بعد اب بھی 1,300 سے زائد نابالغ موجود ہیں۔ مقامی حکومت کے سربراہ خوان خیسوس ویواس نے صورتحال کو “انتہائی ناقابل برداشت” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو مراکش واپس بھیجا جائے۔
اسی بحران کے دوران سمندر کے راستے اسپین پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والے 82 افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
یہ مہاجرین بحران اٹلی اور اسپین کے درمیان سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ آمد و رفت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
