Screenshot
اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے اسپین کی جانب سے شینگن کے آزادانہ نقل و حرکت کے معاہدے کو معطل کرنے اور سرحدی کنٹرول دوبارہ نافذ کرنے کے فیصلے کو “ناقابلِ فہم اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی نے سیوتا میں پیش آنے والے غیر معمولی حالات کے بعد معاہدوں کے مطابق شینگن کو معطل کیا تھا۔
اتوار کے روز دیے گئے انٹرویو میں تاجانی نے کہا کہ سیوتا کے میئر کے مطابق وہاں اب بھی ہزاروں مہاجرین موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کی ہے جنہیں واپس بھیجنا ممکن نہیں۔ تاہم مقامی حکومت کے مطابق یہ تعداد اب کم ہو کر تقریباً 3,000 سے 5,000 رہ گئی ہے۔
اسپین نے بھی حالیہ دنوں میں اٹلی سے آنے والے مسافروں پر سرحدی کنٹرول سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے اسپین کی نائب وزیر اعظم سارا آگاسین نے کہا کہ ابھی تک کوئی مہاجر اسپین کے مرکزی حصے تک نہیں پہنچا اور شینگن نظام محفوظ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اٹلی جلد اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا۔
تاجانی کے مطابق اسپین کی انٹیلیجنس رپورٹس میں اگست کے وسط میں مہاجرت کی ایک نئی لہر آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، اسی لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی خطرہ ختم ہوگا، اٹلی یہ پابندیاں ہٹا دے گا اور الزام لگایا کہ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ سیوتا شینگن علاقے میں شامل نہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ اسپین خود شینگن کا حصہ ہے اور مہاجرین کی نقل و حرکت پورے یورپ، خاص طور پر اٹلی، کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی اس صورتحال میں زیادہ متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ مہاجرین کا اہم ہدف بن سکتا ہے۔
تاجانی نے مزید کہا کہ سرحدوں کا تحفظ ضروری ہے اور سب صحارا افریقہ سے آنے والے کچھ افراد سیکیورٹی خطرات، حتیٰ کہ دہشت گردی، سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اسپین میں کچھ مشتبہ افراد کی گرفتاری کا حوالہ بھی دیا۔
انہوں نے اسپین کی حالیہ مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کی پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے منفی پیغام جاتا ہے اور یورپ کی سیکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب اسپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ شینگن معاہدے کی عارضی معطلی کا مقصد اپنے شہریوں کے وقار اور سیکیورٹی کا تحفظ ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق اٹلی سے آنے والے مسافروں پر بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر عارضی طور پر سرحدی کنٹرول دوبارہ نافذ کیے گئے ہیں، جس کی وجہ بحیرہ روم کے راستے بڑھتی ہوئی مہاجرت کا دباؤ ہے۔
