Screenshot
سیوتا میں ہزاروں افراد نے اتوار کے روز ایک بڑے احتجاج میں شرکت کی، جہاں انہوں نے حالیہ مہاجرتی بحران کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے “اب بس کرو، سیوتا ہار نہیں مانے گا” کا نعرہ لگایا۔ یہ مظاہرہ شہر کے مرکزی چوک پلازا دے لا کونستیتیوسیون میں منعقد ہوا۔
مظاہرے میں مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد، جن میں عیسائی، مسلمان، یہودی اور ہندو شامل تھے، ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔ منتظمین کے مطابق شرکاء کی تعداد 10 ہزار سے زائد تھی، جبکہ پولیس کے مطابق یہ تعداد تقریباً 5 ہزار تھی۔ احتجاج پرامن رہا اور ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔
شرکاء نے حکومتِ اسپین اور یورپی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ سیوتا میں بڑھتے ہوئے مہاجرتی دباؤ، سیکیورٹی مسائل اور انسانی ضروریات کے حوالے سے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیوتا تنہا اس صورتحال کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
احتجاج کے دوران “سیوتا اسپین ہے”، “غیر قانونی مہاجرین کو واپس بھیجو” اور “سانچیز مستعفی ہو” جیسے نعرے بھی لگائے گئے، جبکہ کچھ افراد نے حکومت کے نمائندے کی عدم موجودگی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر “سیوتا کے اتحاد کا منشور” بھی پڑھا گیا، جس میں شہر کی یکجہتی، امن، باہمی احترام اور مشترکہ مستقبل پر زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ یہ مطالبات کسی کے خلاف نفرت نہیں بلکہ سب کے لیے ذمہ داری کے احساس کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
مظاہرہ پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوا، اور شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اتحاد، صبر اور امید کے ساتھ اپنے شہر کے مستقبل کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔
