Screenshot
اسپین کی حکومت کو امید ہے کہ اٹلی “ردعمل” دے گا اور یہ بات واضح طور پر سمجھے گا کہ شینگن زون محفوظ ہے اور سیوتا سے آنے والے کسی بھی تارکِ وطن نے اس کی خلاف ورزی نہیں کی۔
حکومت کی تیسری نائب وزیرِاعظم اور ماحولیاتی امور کی وزیر، سارا آگیسن نے اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “کوئی بھی شخص جزیرہ نما اسپین تک نہیں پہنچا ہے۔” انہوں نے یہ بیان ہیولوا کے علاقے نیبلا میں آگ کے کمانڈ سینٹر کے دورے کے دوران دیا۔
آگیسن کے مطابق حکومت کا بنیادی مقصد “ہسپانوی شہریوں کے وقار کا دفاع” کرنا ہے، اسی لیے انہوں نے وزارتِ داخلہ کے اقدامات کی حمایت کی، جنہیں اتوار کو سرکاری گزٹ (BOE) میں شائع کیا گیا۔
حکومت نے 8 اگست سے عارضی طور پر اٹلی سے آنے والے مسافروں کے لیے بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر اندرونی سرحدی کنٹرول بحال کر دیے ہیں، جس کی وجہ “مرکزی بحیرہ روم کے راستے پر بڑھتا ہوا مہاجرتی دباؤ” بتائی گئی ہے۔
یہ عارضی اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اٹلی “ردعمل” دے اور اسے شینگن کی صورتحال کے بارے میں واضح پیغام ملے۔ آگیسن نے زور دے کر کہا کہ “ہمیں امید ہے کہ اٹلی سمجھے گا کہ شینگن معاہدہ متاثر نہیں ہوا اور مکمل طور پر برقرار ہے۔”
اس اقدام میں توسیع کے لیے نئی وجوہات اور ضرورت کا جائزہ لے کر باقاعدہ فیصلہ کرنا ہوگا، اور شینگن بارڈر کوڈ کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔
یاد رہے کہ اسپین نے جمعہ کے روز اٹلی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہسپانوی مسافروں پر لگائے گئے سرحدی کنٹرول ختم کرے، جس کے لیے تین دن کی مہلت دی گئی تھی۔
تاہم اٹلی نے واضح کیا ہے کہ وہ “کسی قسم کے الٹی میٹم یا دباؤ” کو قبول نہیں کرے گا اور 15 اگست تک اسپین کے خلاف شینگن معاہدے کی معطلی برقرار رکھے گا۔ یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر 15 اگست کو مراکش سے غیر قانونی مہاجرین کے ممکنہ بڑے داخلے کی کال کے بعد کیا گیا ہے، جس کے باعث سرحدی ردعمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
