Screenshot
سیوتا میں 30 جولائی کو داخل ہونے والی تقریباً 300 خواتین اور بچوں نے شہر کے نواحی علاقے لا رینا کے ایک فٹبال گراؤنڈ میں عارضی پناہ لے لی ہے، جہاں وہ زمین پر سونے پر مجبور ہیں۔ مقامی لوگ انہیں کمبل اور چادریں فراہم کر رہے ہیں۔
سیوتا کی ایک عدالت ان مہاجر خواتین کے خلاف مبینہ چھ جنسی حملوں کی تحقیقات کر رہی ہے، جو حالیہ بڑے پیمانے پر داخلے کے بعد پیش آئے۔
23 سالہ ویام ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے اسی میدان میں کھلے آسمان تلے سو رہی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ وہ مراکش سے تیر کر یہاں پہنچی کیونکہ اسے اپنی جان کا خطرہ تھا۔
اس کے مطابق: “میرے والد مجھ پر زیادتی کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں واپس گئی تو وہ مجھے مار ڈالیں گے۔ مجھے وہاں سے بھاگنا تھا اور اپنی زندگی بدلنی تھی۔”
ویام کی کہانی درجنوں دیگر خواتین، ماؤں اور لڑکیوں جیسی ہے جو یہاں خود کو محفوظ محسوس کرنے کے لیے عارضی طور پر اکٹھی رہ رہی ہیں۔
یہ خواتین نہایت مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہیں۔ نہ مناسب نہانے کی سہولت ہے، صرف ایک باتھ روم موجود ہے اور شدید گرمی میں زیادہ تر جگہ سایہ بھی نہیں۔ کئی خواتین اپنے چہروں کو کیمرے سے چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔
ان مشکلات کے باوجود، خواتین روزمرہ کے معاملات کو منظم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مائیں عطیہ کیے گئے کپڑوں کو ترتیب دیتی ہیں اور کھانے کو تقسیم کرتی ہیں۔ ویام کہتی ہے کہ صرف خواتین اور بچوں کے ساتھ رہنا اسے ذہنی طور پر کچھ سکون دیتا ہے: “یہاں میں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہوں۔”
یہ عارضی پناہ گاہ مقامی لوگوں کی مدد سے قائم ہوئی، جب انہوں نے شدید کمزوری اور بعض خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات دیکھے۔ ابتدا میں صرف 10 افراد کے لیے جگہ تھی، لیکن اب یہ تعداد تقریباً 300 تک پہنچ چکی ہے۔
مقامی افراد رات کے وقت پہرہ بھی دیتے ہیں تاکہ خواتین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، وہ چاہتے ہیں کہ خواتین کم از کم یہاں محفوظ رہیں بجائے اس کے کہ کھلے علاقوں میں غیر محفوظ ہوں۔
اس بار آنے والوں میں خواتین، بچے، حتیٰ کہ معذور افراد بھی شامل ہیں، جو اس بحران کو پہلے سے مختلف بناتا ہے۔ کئی لوگ ذہنی صدمے کا شکار ہیں اور انہیں خود بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ یہاں کیسے پہنچے۔
ویام اور دیگر خواتین کی خواہش ہے کہ انہیں اسپین کے دیگر حصوں میں منتقل کیا جائے تاکہ وہ ایک نئی، محفوظ زندگی شروع کر سکیں جہاں خوف نہ ہو۔
