Screenshot
سیوتا میں 30 جولائی سے جاری صورتحال کے باعث طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری ہنگامی منصوبہ نافذ نہ کیا گیا تو صحت کا ایک بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
سیوتا میڈیکل یونین کے صدر اینریکے روویرالتا کے مطابق ایمرجنسی میں روزانہ آنے والے مریضوں کی تعداد معمول کے 100 سے بڑھ کر 500 سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ گرمیوں کے باعث طبی عملہ پہلے ہی کم ہے۔
ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں عارضی طبی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ ہسپتال کی ایمرجنسی پر دباؤ کم ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ وزارتِ صحت کو فوری طور پر اضافی طبی عملہ اور وسائل فراہم کرنے چاہئیں۔
طبی ماہرین نے متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق ہجوم، ناقص حفظانِ صحت اور بعض تارکین وطن کی طبی و ویکسینیشن کی معلومات نہ ہونے سے خارش، تپِ دق، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ کچھ افراد میں خارش اور بخار کے ساتھ اسہال کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔
وزیرِ صحت مونیکا گارسیا نے کہا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک انسانی بحران ہے اور مختلف اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے سیوتا کے لیے ضروری طبی وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں شہر کا دورہ کریں گی۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں اور خبردار کیا ہے: “ہسپتال مزید یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔”
