Screenshot
پناہ حاصل کرنے والوں کو اسپین میں رہنے کا حق ہوگا، جبکہ نابالغوں کی واپسی سے پہلے ان کی انفرادی طور پر سماعت ضروری ہے۔
ہسپانوی وزیر خارجہ جوسے مینوئل الباریس نے سیوتا میں حالیہ تارکینِ وطن کے بحران کے بعد کہا ہے کہ اسپین اور مراکش اس بات پر متفق ہیں کہ غیر قانونی طور پر اسپین میں داخل ہونے والے ہر شخص کو مراکش واپس بھیجا جائے گا۔ تاہم ہسپانوی قوانین اور عدالتی فیصلے اس وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
سیوتا کی حکومت کے مطابق وہاں اب بھی تقریباً 8 ہزار سے 11 ہزار تارکینِ وطن موجود ہیں۔ ان میں 1,527 نابالغ بھی شامل ہیں، جنہیں سب سے زیادہ قانونی تحفظ حاصل ہے۔
قانون کے مطابق اگر کسی شخص کی عمر واضح نہ ہو تو پہلے اس کی عمر کا تعین کیا جائے گا۔ اگر وہ نابالغ ثابت ہو تو اسے بچوں کے تحفظ کے اداروں کی نگرانی میں رکھا جائے گا۔ اس کے بعد اس کے ملکِ اصل سے اس کے خاندانی حالات کی معلومات حاصل کی جائیں گی۔ واپسی کا فیصلہ ہر بچے کے کیس کا الگ جائزہ لینے کے بعد ہوگا اور نابالغ کی رائے بھی سنی جائے گی۔
2021 کا واقعہ بھی حکومت کے لیے بڑی قانونی رکاوٹ ہے۔ اس وقت سیوتا میں بڑے پیمانے پر داخل ہونے والے نابالغوں کو کئی درجن کے گروپوں میں مراکش واپس بھیجا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بعد میں قرار دیا کہ ان کی انفرادی صورتحال کا مناسب جائزہ نہیں لیا گیا تھا اور 2024 میں اس واپسی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔
بالغ تارکینِ وطن کے لیے عمل نسبتاً تیز ہے، لیکن انہیں بھی پہلے قانونی جانچ سے گزرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص سیاسی پناہ یا بین الاقوامی تحفظ کی درخواست دیتا ہے تو اس کی درخواست کا فیصلہ ہونے تک واپسی روک دی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیوتا میں تقریباً 600 سوڈانی اور 200 یمنی شہری ایسے ہیں جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ انہیں بین الاقوامی تحفظ ملنے کا مضبوط امکان ہے۔ انہیں اسپین سے واپس نہیں بھیجا جا سکے گا۔
اگر کسی بالغ کو تحفظ نہ ملے تو واپسی کا عمل شروع ہو سکتا ہے، لیکن اسے وکیل اور ضرورت پڑنے پر مترجم کی سہولت بھی فراہم کرنا لازم ہے۔
