Screenshot
اسپین کے شہر بارسلونا اور کیمبرلس میں 17 اگست 2017 کے دہشت گرد حملوں کے متاثرین کی یاد میں منعقدہ سرکاری تقریب کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ علیحدگی پسند مظاہرین کے ایک گروپ نے ووکس کے نمائندوں کو مبینہ طور پر ’’دہشت گرد‘‘ کے نعروں سے مخاطب کیا۔
تقریب میں بارسلونا کے میئر جاؤمے کولبونی، کاتالان پارلیمنٹ کے صدر جوزپ رُل سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک تھے۔ ووکس کی جانب سے رکنِ پارلیمنٹ خوان گاریگا اور بارسلونا میں پارٹی کے صدر گونزالو دے اورو بھی موجود تھے۔
ووکس کے مطابق، اسٹیلاداس (کاتالان علیحدگی پسند پرچم) اٹھائے مظاہرین نے ان کے نمائندوں کو کئی مرتبہ برا بھلا کہا۔ خوان گاریگا نے سوشل میڈیا پر کہا کہ علیحدگی پسندوں نے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقدہ تقریب کو سیاسی احتجاج اور توہین کا ذریعہ بنا دیا۔
گاریگا کے مطابق، میڈیا سے گفتگو کے بعد وہ مظاہرین کے پاس گئے اور انہیں متاثرین کی یاد کے موقع پر اس رویے سے باز رہنے کو کہا۔ اس دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی اور دونوں فریقوں کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی، جس کے بعد موسوس دِسکادرا پولیس نے مداخلت کرکے انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا۔
ووکس رہنما نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ ان کی جانب سے کوئی اشتعال انگیزی کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ علیحدگی پسند سیاست دان طویل عرصے سے سیاسی تقسیم کو کاتالونیا کے عوام کے مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں۔
ووکس نے اس واقعے کو پارٹی کے خلاف مبینہ سیاسی مہم اور حملوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب کاتالان علیحدگی پسند حلقے 2017 کے دہشت گرد حملوں کے پس پردہ ممکنہ ریاستی کردار کے بارے میں پہلے سے موجود سوالات اٹھاتے رہے ہیں اور مکمل سچ سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
