بارسلونا اور اس کے مضافاتی علاقوں میں رہائش کے بحران اور گھروں میں حد سے زیادہ افراد کے رہنے کا مسئلہ مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ میونسپل مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق بارسلونا شہر میں 2025 کے دوران 2,328 ایسے گھر تھے جہاں 10 سے زیادہ افراد کا اندراج تھا۔ یہ تعداد 2021 کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے، جب ایسے گھروں کی تعداد 1,279 تھی۔
2024 میں یہ تعداد مزید زیادہ، یعنی 2,546 گھروں تک پہنچ گئی تھی۔ بعض انتہائی سنگین معاملات میں ایک ہی گھر میں 20 یا اس سے بھی زیادہ افراد رجسٹرڈ پائے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار شہر میں غیر معیاری رہائش اور گھروں میں حد سے زیادہ لوگوں کے رہنے کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم بارسلونا سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ کسی گھر میں زیادہ افراد کا رہنا کسی شخص کو وہاں میونسپل رجسٹریشن، یعنی پادرون، کرانے سے قانونی طور پر نہیں روک سکتا، کیونکہ پادرون میں اندراج کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ متعلقہ شخص واقعی وہاں رہتا ہو۔
سماجی اداروں کے مطابق ایسے گھروں کو عام طور پر ’’پیسوس پاتیرہ‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں بعض اوقات کم آمدنی والے خاندان انتہائی محدود جگہ میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
بارسلونا سے متصل اوہسپیتالیت میں صورتحال مزید تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ میونسپل اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں ایسے گھروں کی تعداد جہاں 10 یا اس سے زیادہ افراد رجسٹرڈ تھے، 222 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 667 ہو گئی۔ یعنی صرف پانچ سال میں یہ تعداد تقریباً تین گنا ہو گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کرائے، سستی رہائش کی کمی اور بارسلونا سے مہنگے کرایوں کے باعث لوگوں کا قریبی شہروں کی طرف منتقل ہونا اس مسئلے کی بڑی وجوہات ہیں۔
اوہسپیتالیت کے شمالی علاقوں میں خاص طور پر رہائشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ میونسپل اعداد و شمار کے مطابق Samontà کے علاقے میں چند برسوں کے دوران تقریباً 12 ہزار نئے رہائشی آئے، جن میں 43.8 فیصد براہ راست بیرونِ ملک سے آئے تھے۔
سماجی اداروں کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ابتدا میں عارضی طور پر کمرہ کرائے پر لیتے ہیں، لیکن سستی رہائش کی کمی کے باعث وہ طویل عرصے تک اسی غیر موزوں رہائشی صورتحال میں پھنس جاتے ہیں۔
