Screenshot
کاتالونیا میں 17 اگست 2017 کو لاس رامبلاس اور کامبریلس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی نویں برسی کے موقع پر متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اگرچہ 2017 کے بعد کاتالونیا میں کوئی بڑا جہادی دہشت گرد حملہ نہیں ہوا، تاہم سکیورٹی اداروں کے مطابق شدت پسند سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 17-A حملوں کے بعد سے کاتالونیا میں مبینہ جہادی سرگرمیوں کے سلسلے میں 204 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں 35 گرفتاریاں گزشتہ ایک سال کے دوران ہوئیں۔ یہ تعداد اسپین بھر میں ہونے والی ایسی گرفتاریوں کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہے۔
2026 میں بھی کاتالونیا میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں۔ مارچ میں آپریشن بیاساکھی کے دوران پولیس نیشنل اور موسوس دِسکوادرا نے بارسلونا میں 10 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق ان پر ایک ایسے گروپ سے وابستہ ہونے کا شبہ تھا جو اسلام کی توہین کرنے والوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
اپریل میں گواردیا سیویل نے حزب اللہ سے مبینہ تعلق رکھنے والے ایک سیل کو ختم کیا، جبکہ مئی میں کاتالونیا کے مختلف علاقوں میں انسدادِ جہادی کارروائی کے دوران متعدد افراد گرفتار ہوئے۔ سانتا کولوما دے گرامینیت، کاستیل دی فیلز، مونتکادا ای ریشاک اور کاستیل بس بال میں بھی مبینہ انتہا پسندی، نظریاتی تربیت اور دہشت گردی کی حمایت کے حوالے سے گرفتاریاں ہوئیں۔
رپورٹ میں کاتالونیا میں سلفیت اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو شدت پسندی میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ تاہم مضمون میں کاتالونیا کی مسلم آبادی، مساجد اور ہجرت کے بارے میں بھی متعدد سخت اور متنازع دعوے کیے گئے ہیں، جنہیں سرکاری اعداد و شمار یا آزاد ذرائع سے الگ سے جانچنا ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے کا خطرہ بھی بڑھا ہے۔ مضمون میں 27 مارچ 2024 کو بادالونا میں میک ڈونلڈز کے شیشے پر کلہاڑی سے حملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستانی شہری حمزہ وارس نے دسمبر 2025 میں دہشت گردی سے متعلق نقصان کے الزام میں تین سال آٹھ ماہ کی سزا قبول کی تھی۔
