اسپین/ اسپین کے شہر گوآدالاخارا سے وابستہ محققین کی ایک نئی کثیرالمراکز تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا میٹفارمن (Metformin) ایسے مریضوں میں جگر کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے سے منسلک ہے جو ہیپاٹائٹس سی کے وائرس سے نجات حاصل کرچکے ہیں۔
یہ تحقیق گوآڈالاخارا کے یونیورسٹی اسپتال سے شروع ہوئی تھی اور بعد میں اسپین کے دیگر طبی مراکز کے تعاون سے مکمل کی گئی۔ تحقیق کے نتائج طبی جریدے Liver International میں شائع ہوئے ہیں، جو جگر کے امراض کے شعبے میں ایک معتبر سائنسی جریدہ سمجھا جاتا ہے۔
محققین نے اسپین کے تین اسپتالوں میں زیر علاج 1,531 مریضوں کا جائزہ لیا اور ان کی صحت کی صورتحال کا چھ سال سے زیادہ عرصے تک مشاہدہ کیا۔ ان مریضوں کو ماضی میں ہیپاٹائٹس سی کا انفیکشن تھا، تاہم علاج کے بعد وائرس ختم ہوچکا تھا۔
تحقیق کا بنیادی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ان مریضوں میں جنہوں نے مجموعی طور پر زیادہ عرصے تک میٹفارمن استعمال کی، ہیپاٹو سیلولر کارسینوما (Hepatocellular Carcinoma) یعنی جگر کے سب سے عام کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر کم پایا گیا۔
محققین نے واضح کیا کہ ہیپاٹائٹس سی کا کامیاب علاج وائرس کو ختم کردیتا ہے، لیکن جگر کے شدید یا پرانے مرض میں مبتلا بعض مریضوں میں کینسر کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس جیسے اضافی عوامل خطرے کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر خوان رامون لاروبیا کے مطابق آج ہیپاٹائٹس سی کا علاج سب سے بڑا مسئلہ نہیں، کیونکہ مؤثر علاج دستیاب ہیں۔ اصل چیلنج ایسے مریضوں کی شناخت اور مسلسل نگرانی ہے جن میں علاج کے بعد بھی جگر کے کینسر کا خطرہ باقی رہتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ابھی مریضوں کی نگرانی کے موجودہ پروگراموں کو تبدیل نہیں کرتے، تاہم میٹفارمن اور جگر کے کینسر کے درمیان تعلق مزید تحقیق کے لیے ایک امید افزا راستہ ضرور فراہم کرتا ہے۔
