بارسلونا( پ ر )پاکستان تحریک انصاف اسپین کی طرف سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے آج سامنے آنے والی میڈیکل رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک ایسے شخص کو جس نے پاکستان کی کروڑوں عوام کے ووٹ سے ملک کی قیادت کی،جو پاکستان کے کروڑوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہے،جو امت مسلہ کا راہنما ہے،جس کے پاس جیل میں قید ہوتے ہوئے بھی فارم 45 کا بھرپور عوامی مینڈیٹ 180 اسمبلی کی نشتوں کی صورت میں موجود ہے-
انکو طویل عرصے سے بے گناہ قید میں رکھا گیا ہے اور ان کی صحت کے بارے میں مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، مناسب، بروقت اور شفاف طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی زندگی اور صحت کسی سیاسی انتقام، ضد یا اقتدار کی جنگ سے زیادہ اہم ہے۔
ہم فارم 47 کے ذریعے اقتدار پر قابض ہونے والے حکمرانوں اور ان کے تمام سہولت کاروں کو بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا، لیکن ریاستی اقدامات اور سیاسی فیصلوں کی ذمہ داری تاریخ ضرور طے کرتی ہے۔
عوام کے مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے، سیاسی مخالفین کو قید کرکے اور ایک مقبول سیاسی رہنما کو بنیادی انسانی و طبی حقوق سے محروم کرکے کوئی بھی حکومت اپنی سیاسی ساکھ قائم نہیں رکھ سکتی۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو فوری طور پر مکمل، آزاد اور غیر جانب دارانہ طبی معائنہ اور علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ان کی میڈیکل رپورٹس کو شفاف طریقے سے عوام اور اہلِ خانہ کے سامنے رکھا جائے۔ان کے ذاتی معالجین اور ماہرین کو ان کا معائنہ کرنے کی مکمل اجازت دی جائے۔کسی بھی قسم کی طبی غفلت یا علاج میں تاخیر کی صورت میں ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے۔عمران خان کی صحت کو سیاسی معاملات سے الگ رکھتے ہوئے ان کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔فارم 47 کے حکمرانوں اور ان کے سہولت کاروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت عارضی ہے، لیکن عوام کا فیصلہ اور تاریخ کا احتساب دائمی ہوتا ہے۔آپ آج ریاستی طاقت کے ذریعے اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن ایک قوم کے سیاسی شعور کو قید نہیں کیا جا سکتا۔عمران خان صرف ایک فرد کا نام نہیں، وہ کروڑوں پاکستانیوں کے سیاسی مینڈیٹ، جمہوری حق اور حقیقی آزادی کی علامت بن چکے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف اسپین عمران خان کی صحت، سلامتی اور فوری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور یورپ سمیت عالمی سطح پر انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے مطابق اس معاملے کو اجاگر کرتی رہے گی۔
