برسلز(رپورٹ، طاہر لطیف)پاکستان اور بھارت کی ہاکی ٹیمیں 19 اگست کو ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے اہم ترین مقابلے میں آمنے سامنے ہوں گی۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بجے کھیلا جائے گا۔ دونوں روایتی حریفوں کے لیے یہ میچ گروپ مرحلے میں انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔
پاکستان نے ورلڈ کپ کا آغاز انگلینڈ کے ہاتھوں 1-4 کی شکست سے کیا، جبکہ دوسرے میچ میں ویلز کے خلاف 3-3 سے ڈرا کھیلا۔ دو میچوں کے بعد پاکستان کے پاس صرف ایک پوائنٹ ہے۔ دوسری جانب بھارت نے ویلز کو 3-1 سے شکست دی، تاہم انگلینڈ کے خلاف 2-4 سے شکست کے بعد اس کے تین پوائنٹس ہیں۔
پول ڈی میں انگلینڈ 6 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، بھارت 3 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے، جبکہ ویلز اور پاکستان ایک ایک پوائنٹ کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔
پاکستان کے لیے بھارت کے خلاف کامیابی انتہائی ضروری ہے۔ فتح کی صورت میں قومی ٹیم کے پوائنٹس 4 ہوجائیں گے اور اگلے مرحلے میں رسائی کی امید مضبوط ہوگی، جبکہ ڈرا کی صورت میں پاکستان کے پوائنٹس صرف 2 ہوجائیں گے اور اس کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔
پاکستان نے ابتدائی دو میچوں میں 4 گول کیے اور 7 گول کھائے، جس سے دفاعی کمزوری واضح ہوتی ہے۔ بھارت نے 5 گول کیے اور 5 گول کھائے ہیں۔
پاکستانی کپتان ابو بکر محمود کا کہنا ہے کہ پاک بھارت میچ میں عالمی رینکنگ فیصلہ کن نہیں ہوتی، بلکہ میدان میں اس دن کی کارکردگی اصل فرق پیدا کرتی ہے۔ حالیہ مقابلوں میں بھارت نے پاکستان کے خلاف بہتر نتائج حاصل کیے ہیں، تاہم ورلڈ کپ کا میچ ایک نیا مقابلہ ہوگا۔
تقریباً 16 سال بعد ورلڈ کپ میں ایک دوسرے کے مدمقابل آنے والی دونوں ٹیموں کے لیے یہ میچ صرف روایتی حریفوں کا مقابلہ نہیں بلکہ اگلے مرحلے تک رسائی کی جنگ بھی ہے۔ پاکستان کی نظریں فتح پر جبکہ بھارت کی نظریں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے پر ہوں گی۔
