Screenshot
فرانس میں حکام نے ایسے درجنوں اقسام کے کنڈومز کا پتہ لگایا ہے جو حفاظتی ضوابط پر پورا نہیں اترتے۔ ان میں سے 40 ہزار سے زائد کنڈومز آن لائن فروخت کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 2 لاکھ 60 ہزار کنڈومز فارمیسیوں اور دکانوں میں فروخت کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق ان میں استعمال کے دوران پھٹنے کا خطرہ موجود ہے۔
فرانس کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ (DGS) اور جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے مسابقت، صارفین اور فراڈ کی روک تھام (DGCCRF) نے جمعہ کو جاری مشترکہ بیان میں بتایا کہ تقریباً 1,000 ڈبے غیر معیاری کنڈومز کے تھے، جن میں سے زیادہ تر ایشیائی آن لائن فروخت کنندگان کے ذریعے مارکیٹ کیے گئے۔
حکام کے مطابق ان مصنوعات پر CE نشان موجود نہیں تھا، جو یورپی حفاظتی معیارات کی تعمیل کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کسی تسلیم شدہ ادارے سے حفاظتی جانچ بھی نہیں کرائی گئی تھی اور بیشتر مصنوعات کے پیکٹ پر فرانسیسی زبان میں ضروری معلومات موجود نہیں تھیں۔
حکام نے خبردار کیا کہ ایسے غیر معیاری کنڈومز استعمال کرنے سے جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں اور غیر مطلوبہ حمل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب فارمیسیوں اور دیگر دکانوں میں فروخت ہونے والے 2 لاکھ 60 ہزار کنڈومز پر CE نشان موجود تھا، لیکن لیبارٹری ٹیسٹ میں معلوم ہوا کہ وہ بھی حفاظتی تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔ ان میں سے دو اقسام کے کنڈومز کے پھٹنے کا خطرہ پایا گیا، جبکہ ایک قسم میں سوراخ بھی موجود تھے۔
ان مصنوعات کو مئی کے آخر سے اگست کے آغاز کے درمیان مارکیٹ سے واپس اٹھا لیا گیا۔
فرانسیسی حکام نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ آن لائن کنڈوم خریدتے وقت فروخت کنندہ کی شناخت، CE نشان، فرانسیسی زبان میں استعمال کی ہدایات اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ ضرور چیک کریں۔
