Screenshot
یورپ کو آنے والی دہائیوں میں افریقہ سے بڑے پیمانے پر ہجرت کے ایک نئے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق افریقہ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، جنگیں، سیاسی و معاشی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات لاکھوں افراد کو یورپ کی طرف ہجرت پر مجبور کر سکتے ہیں۔
یورپی یونین اس وقت اوسطاً ہر سال تقریباً 40 لاکھ تارکین وطن وصول کر رہی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو صرف اگلی دہائی میں تقریباً 4 کروڑ مزید تارکین وطن یورپ پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم جغرافیائی، معاشی اور ماحولیاتی حالات کے باعث یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
افریقہ کی موجودہ آبادی 1.5 ارب سے تجاوز کر چکی ہے اور اندازوں کے مطابق آنے والی دہائیوں میں یہ تعداد تقریباً دوگنا ہو سکتی ہے۔ افریقی امور کے ماہر اسٹیفن اسمتھ کے مطابق اگلے 30 برسوں میں افریقہ سے یورپ جانے والے مہاجرین کی تعداد 15 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔
’African Insights 2026‘ کے سروے کے مطابق 38 افریقی ممالک میں کیے گئے جائزے میں تقریباً 45 فیصد افراد نے بیرون ملک جانے پر غور کرنے کا اظہار کیا۔ مغربی افریقہ میں یہ شرح 57 فیصد تک پہنچ گئی، جن میں سے 39 فیصد نے یورپ کو ممکنہ منزل قرار دیا۔
شمالی افریقہ میں بھی ہجرت کا رجحان نمایاں ہے۔ سروے کے مطابق 59 فیصد مراکشی اور 56 فیصد تیونسی شہری اپنے ملک سے باہر جانے پر غور کر رہے ہیں۔
زیادہ تر ممکنہ تارکین وطن کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سے یورپ کو غیر قانونی ہجرت کے ساتھ ساتھ آبادیاتی تبدیلی اور مستقبل میں خاندانوں کے دوبارہ ملاپ جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہوگا۔
اس صورت حال کا براہ راست اثر اسپین پر بھی پڑ سکتا ہے، جو جرمنی کے بعد یورپی یونین میں سب سے زیادہ تارکین وطن قبول کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
