Screenshot
اسپین کی فٹبالر ایسٹر گونزالیز نے سعودی عرب میں منافع بخش معاہدہ کرنے کے بعد اپنی اہلیہ اور بچے کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا سے ہٹا دیں
اسپین کی عالمی چیمپئن فٹبالر ایسٹر گونزالیز نے اچانک سعودی عرب کے کلب القادسیہ سے معاہدہ کرلیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ان کے خلاف اس وقت تنقید شروع ہوگئی جب انہوں نے سعودی کلب سے معاہدہ کرنے کے فوراً بعد اپنی ساتھی اور اپنی نومولود بیٹی کے ساتھ موجود تمام تصاویر سوشل میڈیا سے حذف کردیں۔
ایسٹر گونزالیز روڈریگز نے اگست میں امریکی لیگ کو چھوڑ کر سعودی عرب منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ خلیجی ساحل پر واقع مشرقی سعودی شہر الخبر کے کلب القادسیہ کی نمائندگی کریں گی۔ سعودی عرب میں ہم جنس افراد کے درمیان تعلقات غیر قانونی ہیں اور قانون کے تحت ان پر سزا بھی عائد ہوسکتی ہے۔
گونزالیز کی جانب سے اپنی نجی زندگی اور خاندان سے متعلق تصاویر ہٹائے جانے پر سوشل میڈیا، خصوصاً LGBTQ+ حقوق کے کارکنوں میں شدید بحث شروع ہوگئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب کی سخت سماجی اور قانونی پابندیوں کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے۔
اگرچہ گونزالیز کی نئی تنخواہ ظاہر نہیں کی گئی، لیکن بعض ذرائع کے مطابق انہیں امریکہ میں ملنے والی سالانہ تقریباً 5 لاکھ 60 ہزار ڈالر کی خالص آمدنی سے کم از کم دوگنا معاوضہ مل سکتا ہے۔
اس معاہدے سے قبل گونزالیز نے امریکی کلب گوتم سٹی سے باہمی رضامندی سے معاہدہ ختم کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسپین واپس جاکر اپنے ذاتی معاملات اور خاندان کے لیے وقت نکالنا چاہتی ہیں۔ ان کی بیٹی رواں سال جنوری میں پیدا ہوئی تھی۔
تقریباً ایک ماہ بعد سعودی کلب القادسیہ نے 23 اگست کو گونزالیز کے ساتھ معاہدے کا اعلان کیا۔ ایک سالہ معاہدہ 2027 تک ہے، جبکہ مزید ایک سیزن کے لیے توسیع کا اختیار بھی موجود ہے۔
گونزالیز اسپین کی نمایاں ترین خواتین فٹبالرز میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے لیوانتے اور ایتھلیٹیکو میڈرڈ کے ساتھ تین لیگ ٹائٹل اور ایک کوپا دے لا رینا جیتی۔ بعد ازاں ریال میڈرڈ کے لیے 77 میچوں میں 39 گول کیے اور کلب کی تاریخ کی بہترین گول اسکورر بنیں۔
اگست 2023 میں وہ امریکہ منتقل ہوئیں اور NWSL میں کھیلتے ہوئے 2023 کی چیمپئن شپ فائنل میں فیصلہ کن گول کیا۔ اسی سال انہوں نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والا خواتین کا ورلڈ کپ اسپین کے ساتھ جیتا، جبکہ 2025 میں نیشنز لیگ بھی اپنے نام کی۔
سعودی ویمنز پریمیئر لیگ کا آغاز باضابطہ طور پر 2021 میں ہوا تھا۔ لیگ سعودی عرب کی خواتین فٹبال میں عالمی سطح پر نمایاں کھلاڑیوں کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گونزالیز سے قبل برازیل کی اڈریانا لیال دا سلوا، فرانس کی کیرا حمراوی اور پرتگال کی جیسیکا سلوا جیسی معروف کھلاڑی بھی سعودی لیگ کا حصہ بن چکی ہیں۔
