Screenshot
بارسلونا: کاتالونیا کی علیحدگی پسند جماعت جونتس پر کاتالونیا (Junts per Catalunya) اور فٹبال کلب ایف سی بارسلونا نے اتوار کی رات ایلچے اور بارسلونا کے درمیان لا لیگا کے میچ سے قبل پولیس کی جانب سے بارسلونا کے مداحوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ بارسلونا نے یہ میچ 0-5 سے جیت کر 2026/27 کے نئے لا لیگا سیزن کا شاندار آغاز کیا۔
آن لائن شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار بارسلونا کے حامیوں کے درمیان موجود کاتالان آزادی پسند پرچم ایستیلادا کو اتار رہے ہیں۔ اس دوران دو مداحوں کو ہجوم سے الگ کیا جاتا ہے اور پولیس اہلکار ان پر ڈنڈوں سے تشدد شروع کر دیتے ہیں۔
ویڈیو کے مطابق جب ایک مداح پولیس کے تشدد کے خلاف مزاحمت کرتا ہے تو مزید اہلکار وہاں پہنچ جاتے ہیں اور اسے بھی ڈنڈوں سے مارتے ہیں۔ واقعے کے بعد دیگر بارسلونا مداح پولیس اہلکاروں سے الجھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بعد میں دو پولیس اہلکار تشدد کا نشانہ بننے والے مداح کو ہتھکڑیاں لگا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
جونتس کی کانگریس میں رہنما مریم نوگیراس نے واقعے کی تمام معلومات سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر وہاں موجود کسی شخص کے پاس معلومات ہیں تو وہ فراہم کرے، تاکہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
ایف سی بارسلونا نے بھی ایک بیان میں پولیس کی جانب سے ’’غیر متناسب طاقت‘‘ کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر بارسلونا کے مداحوں سے ایستیلادا پرچم ضبط کیا گیا۔
کلب نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پرچم ایک قانونی علامت ہے اور اسے لہرانا آزادی اظہار کا جائز اظہار ہے۔ کلب کے مطابق اس پرچم کی نمائش کو بذاتِ خود نفرت یا تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جونتس اور ایف سی بارسلونا دونوں نے متاثرہ مداح کو قانونی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
جونتس کی کانگریس میں نائب ترجمان پیلار کالوو نے بھی کہا کہ کاتالان آزادی پسند پرچم غیر قانونی نہیں اور نہ ہی اس کا مطلب کسی قسم کے تشدد کی دعوت ہے۔ انہوں نے پولیس پر لوگوں کے خلاف غیر متناسب تشدد کرنے کا الزام عائد کیا۔
