Screenshot
بارسلونا کے مرکزی علاقے پلاسا دے سانت جاؤئیمے میں بدھ کی شام سیوتا میں جاری مہاجرین کے بحران کے حوالے سے دو مخالف مظاہرے ہوئے۔ پولیس نے دونوں گروہوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے اور مظاہرین کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔
سیوتا میں ایک ماہ سے زائد عرصے قبل شروع ہونے والے مہاجرین کے بحران کے بعد یہ معاملہ اب بارسلونا کی سڑکوں تک پہنچ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیوتا میں تقریباً 70 ہزار مہاجرین کی آمد کے بعد کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔
ایک جانب تقریباً ایک ہزار افراد نے ”Por Ceuta“ یعنی ”سیوتا کے لیے“ کے عنوان سے مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج ہسپانوی میونسپلٹیز اور صوبوں کی فیڈریشن کی جانب سے بلایا گیا تھا، جس کی صدارت پاپولر پارٹی یعنی PP کے پاس ہے۔ Vox، PP اور Societat Civil Catalana سمیت مختلف تنظیموں نے اس مظاہرے کی حمایت کی۔
مظاہرین نے ہسپانوی پرچم اٹھا رکھے تھے اور ”سیوتا اسپین کا حصہ ہے“ جیسے نعرے لگائے۔ بعض مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مراکش سے سرحد عبور کرکے آنے والے مہاجرین کو فوری طور پر واپس بھیجا جائے۔ کچھ افراد نے سیوتا کی صورتحال کو ”قبضے“ سے تشبیہ دیتے ہوئے شہر کے معمولات بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مظاہرے میں انتہائی دائیں بازو اور نو نازی گروپ Núcleo Nacional کے ارکان بھی نظر آئے۔
دوسری جانب تقریباً ایک ہزار افراد نے نسل پرستی کے خلاف جوابی مظاہرہ کیا۔ اس میں سماجی تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور سیاسی جماعتوں، جن میں Comuns بھی شامل ہے، نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ”نسل پرستی نامنظور، نہ سیوتا میں نہ کہیں“ کے نعرے لگائے۔
Comuns کے رہنما گیراردو پیساریو نے سیوتا کے بحران پر PSOE کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیر داخلہ فرناندو گران دے مارلاسکا سے ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔
دونوں مظاہروں کے درمیان کسی براہِ راست تصادم سے بچنے کے لیے موسوس دِ اسکادرا نے تقریباً 10 پولیس وینز تعینات کیں اور سانت جاؤئیمے چوک کے راستے بھی بند کر دیے۔
