بارسلونا: بارسلونا کے ساحلی علاقے بارسلونیتا کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہوگیا ہے جہاں شہر کی پہلی خانہ بدوش (Gitanа) دیو قامت پتلی متعارف کرادی گئی ہے۔ اس کا نام ’’دولورس‘‘ رکھا گیا ہے اور اسے بارسلونیتا کے مقامی تہوار کے موقع پر پیش کیا گیا۔
دولورس کی تیاری میں تقریباً ایک سال کا عرصہ لگا۔ اس منصوبے کی قیادت بارسلونیتا کی خانہ بدوش ایسوسی ایشن نے کی، جبکہ بارسلونیتا کے رہائشیوں کی تنظیم اور علاقے میں قائم Constructor de Fantasies ورکشاپ نے بھی اس کی تیاری میں تعاون کیا۔
اس دیو قامت پتلی کو ڈیزائن اور تیار کرنے والے دیود گارسیا کا تعلق بھی بارسلونیتا سے ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے میں کئی چیلنجز درپیش تھے کیونکہ ان کی ورکشاپ نے اس سے قبل کبھی دیو قامت پتلی تیار نہیں کی تھی۔ تاہم سر کٹے مجسمے اور آتشیں تہواروں کے لیے بنائی جانے والی دیگر اشیا کی تیاری کا تجربہ موجود تھا۔ ڈولورس کی تیاری میں مقامی رہائشیوں اور ایک کوآپریٹو سمیت متعدد افراد نے بھی حصہ لیا۔
دولورس کے کردار میں خانہ بدوش خواتین کی روایتی خصوصیات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے لمبے سیاہ بالوں کی چوٹی، بڑے جھمکے، نمایاں اور رنگے ہوئے ہونٹ، سجے ہوئے ناخن اور گہری رنگت کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ ڈیزائنر کے مطابق ان تمام خصوصیات سے بڑھ کر وہ خانہ بدوش عورت کی نگاہ کی طاقت، خوشی اور جذبے کو نمایاں کرنا چاہتے تھے۔
دولورس نے لمبی جھالر دار اسکرٹ اور ایک پٹی پہن رکھی ہے جس پر خانہ بدوش برادری کا نشان موجود ہے، جبکہ پٹی کو بارسلونا کے مشہور پانوت (Panot) سے سجایا گیا ہے۔
بارسلونیتا کی خانہ بدوش ایسوسی ایشن کی صدر ماریا نے اس منصوبے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقے کی تاریخ کا ایک اہم حصہ نمایاں ہوا ہے اور جڑوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق گزشتہ صدی کے آغاز میں سوموروسٹرو کے ساحلی علاقے میں، جہاں عالمی شہرت یافتہ رقاصہ کارمین امایا پیدا ہوئی تھیں، بارسلونیتا کی تقریباً 70 فیصد آبادی خانہ بدوش برادری سے تعلق رکھتی تھی۔
منتظمین مستقبل میں دولورس کے ساتھ ایک مرد دیو قامت پتلی بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا نام ’’انتونیو‘‘ رکھا جائے گا۔
