اسپین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے کل، منگل کو رہائش سے متعلق متعدد اقدامات دوبارہ منظور کرے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب
وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے ملک میں قبل از وقت عام انتخابات 29 نومبر کو کرانے کا اعلان کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مونکلوا میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مقصد رہائشی پالیسیوں پر کام روکنا نہیں بلکہ دستیاب اختیارات کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ گزشتہ جمعے کو کانگریس میں مسترد کیے گئے رہائش سے متعلق شاہی فرمانوں کو دوبارہ منظور کیا جائے۔
ان اقدامات میں بے دخلی کے عمل پر عارضی پابندی اور رہائشی کرایہ داری کے معاہدوں میں توسیع جیسے اقدامات شامل ہیں۔ گزشتہ ہفتے یہ پیکیج پاپولر پارٹی، ووکس، یوپی این اور جونتس کی مخالفت کے باعث کانگریس سے منظور نہیں ہوسکا تھا۔
تاہم اب صورتحال مختلف ہے۔ پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد کانگریس کی مستقل نمائندہ کمیٹی فعال ہو جائے گی، جہاں فیصلوں کے لیے اکثریت کا طریقہ عام اجلاس سے مختلف ہوگا۔ اس لیے حکومت کو جونتس کے رہنما کارلس پیوجدمونت کی جماعت کے سات ووٹوں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد رہائشی بحران سے متاثرہ اور کمزور طبقات کو فوری تحفظ فراہم کرنا ہے۔ سانچیز حکومت کے مطابق گزشتہ دنوں بے دخلی کے واقعات اور رہائش کے بحران کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج کے باعث ان اقدامات کو انتخابات تک مؤخر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
کل اقدامات کی منظوری کے بعد انہیں مستقل نمائندہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے پاس انہیں منظور یا مسترد کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت ہوگا۔ حکومت اس معاملے کو انتخابی مہم تک سیاسی بحث کا اہم موضوع بنائے رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
