برطانیہ کے معروف جیوپولیٹیکل تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) کی ایک رپورٹ میں اسپین میں چینی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین، جسے مغربی ممالک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ’’ہائی رسک سپلائر‘‘ سمجھا جاتا ہے، اسپین کے سرکاری شعبے کے زیر استعمال انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے اہم حصوں میں نمایاں موجودگی رکھتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپین کی چین سے بڑھتی ہوئی اقتصادی وابستگی مستقبل میں چینی ٹیکنالوجی فراہم کنندگان پر پابندیاں یا اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کرنا مشکل بنا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مصنفین کے مطابق سیاسی قیادت کو خدشہ رہتا ہے کہ سخت اقدامات کے نتیجے میں چین کی جانب سے معاشی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔
RUSI نے اسپین کی پالیسی کو یورپی یونین اور نیٹو کی سکیورٹی ترجیحات سے بعض معاملات میں مختلف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں چینی ٹیکنالوجی سے وابستہ خطرات کے حوالے سے مختلف سطحوں پر مختلف رویے پائے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قومی سطح پر سائبر سکیورٹی ادارے خطرات سے زیادہ آگاہ ہیں، تاہم علاقائی اور مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی خریداری میں بجٹ اور دستیابی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر ہواوے کی ٹیکنالوجی اور دیگر چینی کمپنیوں کے ساتھ اسپین کے تعاون کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چیری۔ایبرو کے الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے اور چینی کمپنی اینویژن کے ساتھ ہائیڈروجن توانائی کے منصوبے کو بھی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کاتالونیا کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطے میں چینی سرمایہ کاری کے لیے اقدامات اور بارسلونا بندرگاہ پر چینی ساختہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق منصوبے بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔
RUSI کے مطابق اسپین کا چین کے ساتھ سبز توانائی اور صنعتی شعبے میں تعاون اس کی ماحولیاتی اور معاشی ترجیحات سے مطابقت رکھ سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ چین پر اقتصادی انحصار بھی بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسپین اور چین کے تعلقات کو بعض ماہرین کی جانب سے سفارتی اور تجارتی زاویے سے زیادہ دیکھا جاتا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی کے ممکنہ جغرافیائی سیاسی پہلوؤں پر مزید توجہ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
