میڈرڈ/ اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کے اقتدار میں آنے کے بعد سے رہائش کا مسئلہ ان کی حکومت کی پالیسیوں کا ایک اہم محور رہا، تاہم اب ان کی حکومت کے اختتام پر بھی یہی مسئلہ سیاسی منظرنامے میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ سانچیز نے ہاؤسنگ کو فلاحی ریاست کا پانچواں ستون قرار دیتے ہوئے اس شعبے میں متعدد اقدامات کیے، جن میں سب سے نمایاں ہاؤسنگ قانون کا نفاذ تھا، جسے ابتدا ہی سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
سانچیز حکومت نے وزارتِ ہاؤسنگ کو دوبارہ فعال کیا، جو اس سے قبل سوشلسٹ حکومت کے دور میں قائم کی گئی تھی۔ اس وزارت کی سربراہی ازابیل رودریگیز کو سونپی گئی۔ اگرچہ ہاؤسنگ سے متعلق زیادہ تر اختیارات خود مختار علاقوں کے پاس ہیں، مرکزی حکومت نے رہائش کے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنے اختیارات کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کا اعلان کیا۔
مئی 2023 میں سانچیز کی پہلی مخلوط حکومت نے اسپین کی جمہوری تاریخ کا پہلا ہاؤسنگ قانون منظور کیا، جس کے تحت خود مختار علاقوں کو کرائے کے دباؤ والے علاقوں کا اعلان کرنے اور کرایوں کی حد مقرر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس قانون کو حزبِ اختلاف اور پراپرٹی سیکٹر کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
حکومت نے نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد کے لیے رہائش آسان بنانے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے۔ ان میں گھر خریدنے کے لیے 20 فیصد سرکاری ضمانت، نوجوانوں کے لیے 200 ملین یورو کا کرایہ بونس، اور ہاؤسنگ کی صنعتی پیداوار کے لیے 1.3 ارب یورو کی سرمایہ کاری شامل ہے۔
حکومت نے غیر یورپی شہریوں کے لیے 500,000 یورو کی جائیداد خریدنے کے عوض دی جانے والی ’گولڈن ویزا‘ اسکیم بھی ختم کردی۔ سیاحتی اپارٹمنٹس کو محدود کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے، جبکہ مختصر مدتی کرایوں کے لیے رجسٹری قائم کی گئی، جسے بعد میں سپریم کورٹ نے اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے منسوخ کردیا۔
حکومت نے سرکاری رہائشی ذخیرے اور زمین کو مستقل طور پر محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ Casa 47 کے نام سے نئی سرکاری ہاؤسنگ کمپنی بھی قائم کی، جسے ہزاروں سرکاری مکانات اور زمین منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ تاہم، زمین کے قانون میں اصلاحات کانگریس میں تعطل کا شکار رہیں۔
حکومت کی جانب سے بے دخلیوں پر پابندی میں توسیع، کرایوں کی خودکار تجدید اور ٹیکس مراعات سے متعلق آخری ہاؤسنگ اقدامات بھی پارلیمان کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد فی الحال زیرِ التوا ہیں۔
