بی ایم ایجوکیٹرز کے تعاون سے بارسلونا میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام، خراب موسم کے باوجود مختلف اوقات میں تقریباً سات سو خواتین کی شرکت، کاروبار، ہنر، ثقافت، روایات اور تفریح کے رنگ ایک ہی چھت تلے جمع

بارسلونا (دوست نیوز) بارسلونا میں خواتین اور لڑکیوں کے چھوٹے اور گھریلو کاروباروں، فن، ہنر اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ہفتہ 3 اکتوبر کو ’’دیسی دستک‘‘ کے عنوان سے ایک منفرد اور رنگا رنگ ثقافتی میلے کا انعقاد کیا گیا۔ بی ایم ایجوکیٹرز کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس پروگرام میں مختلف شعبوں سے وابستہ خواتین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا، جہاں انہیں اپنی مصنوعات، کاروبار اور تخلیقی صلاحیتیں وسیع حلقے کے سامنے متعارف کروانے کا موقع ملا۔

بارسلونا میں اپنی نوعیت کے اس منفرد پروگرام کا بنیادی مقصد بالخصوص ان خواتین اور لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جو محدود وسائل کے ساتھ چھوٹے یا گھریلو کاروبار چلا رہی ہیں۔ انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا گیا جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے ساتھ اپنے کاروبار کی تشہیر، نئے صارفین تک رسائی اور دوسری کاروباری خواتین کے ساتھ روابط قائم کرسکیں۔
تقریب پنجاب شنواری ریسٹورنٹ کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی، جس کا آغاز دوپہر دو بجے ہوا اور مختلف سرگرمیاں رات گیارہ بجے تک جاری رہیں۔ پروگرام کی تیاریاں تقریباً دو ماہ سے جاری تھیں۔ اسے خواتین کے کاروبار، ثقافت، فن، روایات اور تفریح کا خوبصورت امتزاج بنانے کے لیے بھرپور محنت کی گئی، جبکہ عروسہ راجہ نے پروگرام کی منصوبہ بندی، ترتیب اور تنظیم میں مرکزی کردار ادا کیا۔

تقریب کے روز موسم سازگار نہ ہونے کے باوجود خواتین کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ بارسلونا اور گردونواح سے خواتین نے بڑی تعداد میں میلے کا رخ کیا اور دن کے مختلف اوقات میں تقریباً سات سو خواتین نے ’’دیسی دستک‘‘ میں شرکت کی۔ شرکاء نے خواتین کی جانب سے لگائے گئے کاروباری اور تخلیقی اسٹالز کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں میں بھی بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔
تقریب میں قونصل جنرل پاکستان بارسلونا مراد علی وزیر اپنی فیملی کے ہمراہ خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ بی ایم ایجوکیٹرز کے ڈائریکٹر مظہر حسین راجہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستانی و پنجابی ثقافت کے سفیر اور صدارتی ایوارڈ یافتہ قدیر احمد خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔

مظہر حسین راجہ نے معزز مہمانوں کو تقریب میں خواتین اور لڑکیوں کی جانب سے لگائے گئے مختلف کاروباری اور تخلیقی اسٹالز کا دورہ کروایا۔ قونصل جنرل مراد علی وزیر نے فرداً فرداً اسٹالز پر جاکر خواتین اور لڑکیوں سے ملاقات کی، ان کے کاروبار، مصنوعات اور تخلیقی کام کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان کی محنت، صلاحیت اور کاروباری جذبے کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
اس موقع پر قونصل جنرل نے خواتین سے مختصر خطاب بھی کیا اور چھوٹے اور گھریلو کاروبار کرنے والی خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایسے پلیٹ فارمز کے قیام کو مثبت اقدام قرار دیا۔ انہوں نے ’’دیسی دستک‘‘ کو کامیابی سے منعقد کرنے اور خواتین و لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں، ہنر اور کاروبار متعارف کروانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنے پر عروسہ راجہ اور ان کی وومن ٹیم کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔

خواتین کے کاروباروں کی بھرپور نمائندگی
’’دیسی دستک‘‘ میں مختلف شعبوں سے وابستہ خواتین اور لڑکیوں نے اپنے کاروباری اسٹالز سجائے۔ ان میں:
Bueno Belle / ملبوسات
Rangreza / جیولری
Cyonix / موبائل ایکسیسریز
Bliss Bites Dates
Henna by Ushna
MM Cakes
TN Bakes
Unik Details
Essencias Perfumes
Candy Lenses
شامل تھے۔
ان اسٹالز کے ذریعے فیشن، ملبوسات، زیورات، بیکنگ، کیک اور پیسٹری، کھانے پینے کی مصنوعات، مہندی، پرفیومز، بیوٹی اور موبائل ایکسیسریز سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کو اپنی مصنوعات اور خدمات براہِ راست کمیونٹی کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا۔

پنجاب کی پرانی ثقافت اور 1990 کی دہائی کی یادیں تازہ
’’دیسی دستک‘‘ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اسے صرف کاروباری میلے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ پاکستانی اور بالخصوص پنجابی ثقافت، دیہی زندگی اور ماضی کی خوبصورت یادوں کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی بھرپور کوشش بھی کی گئی۔
میلے میں پنجاب کی روایتی زندگی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کے لیے پنجابی چارپائی، حقہ، ہاتھ کی پنکھی، پانی کا مٹی کا گھڑا، پرانا ٹیپ ریکارڈر، روایتی موہڑا، تکیے، چرخہ اور چھابے سمیت متعدد قدیم اور روایتی اشیاء خصوصی طور پر سجائی گئی تھیں۔

اس ثقافتی گوشے میں 1990 کی دہائی کی بہت سی یادوں کو بھی زندہ کیا گیا۔ ماضی کے معروف فنکاروں کی تصاویر اور اس دور سے وابستہ مختلف اشیاء نے بیرونِ ملک پروان چڑھنے والی نئی نسل کو اپنے والدین کے دور، رہن سہن اور ثقافتی پس منظر سے روشناس کروانے کا منفرد موقع فراہم کیا۔
اس ثقافتی نمائش کا بنیادی مقصد محض پرانی اشیاء کو سجانا نہیں تھا بلکہ بچوں اور نئی نسل کو یہ دکھانا تھا کہ ان کے والدین اور بزرگ کس ماحول میں زندگی گزارتے تھے، پنجاب کی روایتی زندگی کیسی تھی اور جدید دور سے پہلے روزمرہ زندگی میں کن اشیاء کا استعمال کیا جاتا تھا۔
چارپائی، موہڑے، حقے، چرخے، مٹی کے گھڑے اور ہاتھ کی پنکھی سے لے کر پرانے ٹیپ ریکارڈر تک، ہر چیز اپنے اندر ماضی کی ایک کہانی لیے ہوئے تھی۔ دیارِ غیر میں سجایا گیا یہ ثقافتی منظر بہت سے شرکاء کے لیے ماضی کی یادوں کو تازہ کرنے کا ذریعہ بنا، جبکہ بچوں کے لیے یہ اپنی ثقافتی جڑوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا ایک منفرد تجربہ تھا۔

قدیر احمد خان کی ثقافتی پیشکش
ثقافتی پروگرام میں پاکستانی و پنجابی ثقافت کے سفیر اور صدارتی ایوارڈ یافتہ قدیر احمد خان روایتی ثقافتی لباس میں شریک ہوئے۔ ان کی موجودگی اور منفرد انداز نے میلے میں پنجابی ثقافت کے رنگ مزید نمایاں کردیے۔
قدیر احمد خان نے روایتی چرخے کے ساتھ پنجابی گیت پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ روایتی لباس، چرخے اور پنجابی گیت کے حسین امتزاج نے پنجاب کی قدیم دیہی ثقافت کی یاد تازہ کردی اور حاضرین نے انہیں بھرپور داد دی۔
دیارِ غیر میں ان کی یہ ثقافتی پیشکش بالخصوص نئی نسل کے لیے اپنی تہذیب، زبان، روایات اور ثقافتی ورثے سے جڑنے کا خوبصورت ذریعہ بنی۔
اسی طرح ڈی جے ڈائمنڈ نے پنجابی ڈھول کی مختلف دھنیں اور بیٹس پیش کرکے تقریب کی رونق میں مزید اضافہ کیا۔ ڈھول کی تھاپ سے ہال میں پنجابی ثقافت کے رنگ بکھر گئے اور شرکاء نے اس پیشکش کو بھرپور انداز میں سراہا۔
خواتین اور بچوں کے لیے دلچسپ مقابلے
تقریب کو کاروباری اور ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ ایک مکمل فیملی ایونٹ بنانے کے لیے خواتین اور بچوں کے لیے مختلف تفریحی اور تخلیقی سرگرمیوں کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا۔

ان سرگرمیوں میں دوپٹہ سیٹنگ، میوزیکل چیئر، ہیئر اسٹائلنگ، 80 اور 90 کی دہائی کے مقبول گیت پہچاننے کا مقابلہ، بچوں کے لیے پینٹنگ اور اسپون گیم شامل تھے۔
اس کے علاوہ بیوٹی، ہیئر اسٹائلنگ اور بچوں کے ملبوساتی انداز سے متعلق سرگرمیاں بھی پروگرام کا حصہ رہیں۔ خواتین نے مختلف مقابلوں میں بھرپور جوش و خروش سے حصہ لیا جبکہ بچوں کی سرگرمیوں نے میلے کو مزید پُررونق بنادیا۔
عروسہ راجہ اور صبا عابد نے نظامت کے فرائض انجام دیے

پروگرام کی نظامت عروسہ راجہ اور صبا عابد نے کی۔ دونوں نے تقریب کے مختلف مراحل کو خوبصورتی، روانی اور خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھایا اور کاروباری اسٹالز، ثقافتی پروگرام، مقابلوں اور دیگر سرگرمیوں کے درمیان بہترین رابطہ برقرار رکھتے ہوئے پروگرام کو آخر تک پُررونق بنائے رکھا۔
تقریب کی خوبصورت اور دیدہ زیب آرائش Zainah Event Planner کی جانب سے کی گئی۔ ہال کی سجاوٹ کو تقریب کی کاروباری اور ثقافتی نوعیت سے ہم آہنگ رکھا گیا، جس نے ’’دیسی دستک‘‘ کی مجموعی فضا کو مزید دلکش بنادیا۔
پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں اسٹالز اور ثقافتی اشیاء کو سجانے کا کام جمعہ کی رات ہی شروع کردیا گیا تھا۔ خواتین اور بی ایم ایجوکیٹرز کی ٹیم رات تقریباً دو بجے تک انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف رہی تاکہ اگلے روز تمام انتظامات بروقت مکمل ہوں۔

وومن ٹیم اور رضاکاروں کا اہم کردار
پروگرام کے انتظامی امور میں حنا شہباز، جویریہ منصور اور سمرہ خان نے بھرپور معاونت کی۔ تقریب کو کامیاب بنانے میں ان کی محنت، تعاون اور ذمہ دارانہ کردار پر عروسہ راجہ کی جانب سے ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔
اسی طرح پروگرام میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے والی بچیوں نے بھی نہایت اہم کردار ادا کیا۔ مہمانوں کی رہنمائی، مختلف سرگرمیوں میں معاونت اور دیگر انتظامی ذمہ داریاں انہوں نے خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ ان کی محنت اور جذبۂ خدمت کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا۔

تقریب کے دوران محبت اور قدردانی کے اظہار کے طور پر مختلف کاروباری اداروں اور اسٹال ہولڈرز کی جانب سے تحائف بھی پیش کیے گئے۔ Unik Details، Henna by Ushna، Bliss Bites، MM Cakes اور Tartas Cakes کی جانب سے پیش کیے گئے تحائف پر دلی تشکر کا اظہار کیا گیا۔
سپین بھر سے عروسہ راجہ اور ان کی ٹیم کو مبارک باد
’’دیسی دستک‘‘ کو بارسلونا ہی نہیں بلکہ سپین کے دیگر علاقوں میں مقیم پاکستانی خواتین کی جانب سے بھی بھرپور پذیرائی ملی۔ سپین بھر سے خواتین نے عروسہ راجہ اور ان کی وومن ٹیم کو اس منفرد کاوش پر مبارک باد پیش کی اور بالخصوص اس اقدام کو سراہا کہ چھوٹے اور گھریلو کاروبار کرنے والی لڑکیوں اور خواتین کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا گیا جہاں ان کی محنت، ہنر، صلاحیت اور کاروبار کو کمیونٹی کے وسیع حلقے کے سامنے متعارف ہونے کا موقع ملا۔

بی ایم ایجوکیٹرز کی جانب سے خواتین کے مختلف چھوٹے اور گھریلو کاروباروں کو ایک ہی جگہ جمع کرنے کا مقصد محض ایک روزہ نمائش کا انعقاد نہیں تھا بلکہ ایسی خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا بھی تھا جو محدود وسائل کے باوجود اپنے ہنر، تخلیقی صلاحیت اور محنت کو کاروبار میں تبدیل کرکے آگے بڑھنے کی جدوجہد کررہی ہیں۔
اس پلیٹ فارم نے کاروباری خواتین کو اپنی مصنوعات متعارف کروانے کے ساتھ نئے صارفین تک رسائی، باہمی روابط قائم کرنے، تجربات کے تبادلے اور مستقبل میں اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینے کا موقع فراہم کیا۔
’’دیسی دستک‘‘ نے ایک طرف خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو سامنے لایا تو دوسری جانب پنجاب کی چارپائی، حقے، چرخے، موہڑے، مٹی کے گھڑے، ہاتھ کی پنکھی، چھابوں، پرانے ٹیپ ریکارڈر، معروف فنکاروں کی تصاویر اور 1990 کی دہائی کی یادوں کے ذریعے نئی نسل کو اپنی ثقافتی جڑوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔

یہ میلہ اس لحاظ سے بھی منفرد رہا کہ ایک ہی چھت تلے خواتین کا کاروبار، نئی نسل کا ہنر، بچوں کی تفریح، پاکستانی ثقافت، پنجابی روایات اور ماضی کی یادیں یکجا ہوگئیں۔
خراب موسم کے باوجود مختلف اوقات میں تقریباً سات سو خواتین کی شرکت، کاروباری اسٹالز، ثقافتی ورثے کی نمائش، قدیر احمد خان کی روایتی پیشکش، ڈی جے ڈائمنڈ کے ڈھول کی تھاپ، خواتین اور بچوں کے مقابلوں اور وومن ٹیم و رضاکاروں کی بھرپور محنت نے ’’دیسی دستک‘‘ کو بارسلونا کی پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک یادگار تقریب بنا دیا۔
بارسلونا میں اپنی نوعیت کے اس پہلے پروگرام نے خواتین کے چھوٹے اور گھریلو کاروباروں کو نہ صرف ایک نئی پہچان فراہم کی بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ دیارِ غیر میں رہتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب، ثقافت اور روایات کو نئی نسل تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔

بی ایم ایجوکیٹرز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی باصلاحیت لڑکیوں اور خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کے کاروباری سفر میں تعاون جاری رکھا جائے گا، تاکہ وہ اپنے ہنر اور صلاحیتوں کو کامیاب اور مستحکم کاروبار میں تبدیل کرسکیں اور پاکستانی کمیونٹی میں دوسری خواتین کے لیے بھی ایک مثبت مثال بنیں۔
