میڈرڈ: اسپین کی سپریم کورٹ نے ان افراد کے ووٹ دینے کے معاملے پر اپنا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے جنہوں نے اپنے جلاوطن ہسپانوی آباؤ اجداد کی بنیاد پر نام نہاد ’قانونِ پوتے پوتیوں‘ (Ley de Nietos) کے تحت ہسپانوی شہریت حاصل کی ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقین کو مؤقف پیش کرنے کے لیے مزید 48 گھنٹے کی مہلت دے دی ہے۔
سپریم کورٹ کے انتظامی امور سے متعلق چیمبر نے منگل کو جاری کیے گئے دو احکامات میں کہا ہے کہ فریقین کے لیے یہ مدت ناقابلِ توسیع ہوگی اور جمعرات کو سہ پہر 3 بجے تک اپنے دلائل اور اعتراضات جمع کرانے ہوں گے۔ اس کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی کہ تقریباً 4 لاکھ افراد، جنہوں نے اس قانون کے ذریعے شہریت حاصل کی ہے، 29 نومبر کو ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے یا نہیں۔
یہ معاملہ اس وقت پیدا ہوا جب وکس (Vox) اور Iustitia Europa نے عدالت سے احتیاطی اقدامات کی درخواست کی تھی۔ ان درخواستوں کے بعد سپریم کورٹ نے عارضی طور پر ان نئے شہریوں کی بیرونِ ملک مقیم ووٹرز کے انتخابی فہرست CERA میں رجسٹریشن روک دی تھی۔
عدالت نے پہلے یہ شرط عائد کی تھی کہ ’قانونِ پوتے پوتیوں‘ کے ذریعے شہریت حاصل کرنے والے افراد کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایسے جلاوطن افراد کے بچے یا پوتے پوتیاں ہیں جنہیں سیاسی، نظریاتی، مذہبی یا جنسی رجحان کی بنیاد پر جلاوطن ہونا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی ثابت کرنا تھا کہ انہوں نے ماضی میں ہسپانوی شہریت کھو دی تھی یا اس سے دستبردار ہوئے تھے۔
دوسری جانب ریاستی وکلا کے دفتر نے سپریم کورٹ میں اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اقدام سے ووٹ دینے کے حق کو محدود کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ نئے ووٹرز کے تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار کیسز کی جانچ پڑتال مقررہ مدت میں کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔
تاہم وزیراعظم پیدرو سانچیز کی جانب سے عام انتخابات 29 نومبر کو کرانے کے اعلان کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ انتخابی قانون کے مطابق انتخابات میں استعمال ہونے والی ووٹر فہرست عام طور پر انتخابات سے دو ماہ قبل کی صورتحال کے مطابق طے ہوتی ہے۔ 29 نومبر کے انتخابات کے لیے متعلقہ تاریخ یکم اگست بنتی ہے، جو سپریم کورٹ کی جانب سے احتیاطی اقدام عائد کیے جانے سے پہلے کی تاریخ ہے۔
اب سپریم کورٹ کو یہ طے کرنا ہے کہ ان تقریباً 4 لاکھ نئے ہسپانوی شہریوں کو آئندہ عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوگا یا نہیں۔
