سیوتا: اسپین کے محتسب (Defensor del Pueblo) نے خود مختار شہر سیوتا میں تعینات فوجی اہلکاروں کی جانب سے وسائل کی کمی اور فرائض کی انجام دہی کے دوران درپیش مشکلات سے متعلق شکایات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ فوجی اہلکاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں اپنے فرائض مؤثر انداز میں انجام دینے کے لیے ضروری وسائل اور مناسب سہولیات دستیاب نہیں کرائی جا رہیں۔
فوجیوں کا کہنا ہے کہ سیوتا میں ڈیوٹی کے دوران انہیں مسلسل ایسے افراد کی جانب سے حملوں اور خطرات کا سامنا رہتا ہے جو غیر قانونی طور پر شہر میں موجود ہیں۔ شکایات کے مطابق بعض مواقع پر فوجیوں کو پتھراؤ، چاقو سے حملے کی کوشش، لاتوں اور گھونسوں سمیت مختلف نوعیت کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض اہلکاروں کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
سیوتا میں تعینات فوجی اہلکاروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ریاستی سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیے بھیجے جانے سے قبل انہیں مناسب قانونی تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ فوجیوں کے مطابق واضح قانونی دائرہ کار اور تحفظ نہ ہونے کی صورت میں وہ ایسے اقدامات سے گریز کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں جو بعد میں عدالتوں میں شکایات یا قانونی کارروائی کا سبب بنیں۔
دوسری جانب سیوتا میں پولیس افسران اور گوارڈیا سول کے اہلکار بھی غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق مختلف کارروائیوں کے دوران خطرات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ بعض واقعات میں سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
محتسب کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا سیوتا میں تعینات فوجیوں کو ان کی ذمہ داریوں کے مطابق مناسب وسائل، حفاظتی اقدامات اور قانونی ضمانتیں فراہم کی جا رہی ہیں یا نہیں۔ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی سفارش کی جا سکتی ہے۔
