میڈرڈ/ اسپین میں رہائش کے بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف کرایہ داروں کی تنظیم Sindicato de Inquilinas نے نومبر میں رہائش کے حق کے لیے ملک گیر ہڑتال کی تیاریوں کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کی ترجمان ایلیشیا دیل ریو نے کہا ہے کہ یہ جدوجہد آئندہ انتخابات کے شیڈول کی پابند نہیں ہوگی اور رہائش کے حق کے لیے تحریک جاری رہے گی۔
ایلیشیا دیل ریو نے یہ اعلان وزیراعظم پیدرو سانچز کی جانب سے پارلیمنٹ تحلیل کرنے اور 29 نومبر کو قبل از وقت انتخابات کرانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ جدوجہد کسی انتخابی کیلنڈر کا انتظار نہیں کرے گی‘‘ اور اس وقت سب سے اہم مقصد رہائش کے حق کے لیے ایک ملک گیر ہڑتال کی تعمیر ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہڑتال کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔ تنظیم مختلف ٹریڈ یونینز کے مرکزی اداروں سے بات چیت کر رہی ہے اور آئندہ دنوں میں تاریخ کا اعلان متوقع ہے۔
ترجمان نے پارلیمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قانون سازی پر ’’کرایوں سے منافع کمانے والے مفادات‘‘ کا غلبہ رہا ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ انتخابی مہم کے دوران واضح کریں کہ وہ رہائش کے بحران سے نمٹنے کے لیے کون سے اقدامات کریں گی۔
رہائشی تحریک مستقل کرایہ داری کے معاہدوں، کرایوں میں ’’نمایاں کمی‘‘ اور بڑے سرمایہ کاری فنڈز سے بعض جائیدادوں کی تحویل جیسے مطالبات پیش کر رہی ہے۔ ڈیل ریو کے مطابق یہ مطالبات اسپین کے 50 سے زائد شہروں میں سامنے آ چکے ہیں۔
انہوں نے صحت، پنشن، تعلیم اور اجرتوں کے مسائل پر متحرک دیگر گروہوں کو بھی ملک گیر ہڑتال کی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
میڈرڈ کے سول اسکوائر میں جاری رہائشی دھرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے ختم کرنے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی اور یہ احتجاج رہائشی تحریک کی تنظیم سازی کا مرکز بنا رہے گا۔
انتخابات کے حوالے سے دیل ریو نے کہا کہ تنظیم ’’انتخابی سیاست کے کھیل‘‘ کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔ ان کے مطابق حکومت میں کوئی بھی جماعت آئے، رہائش کے حق کی تحریک سڑکوں پر اپنا دباؤ جاری رکھے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ آٹھ دنوں کے احتجاج نے سیاسی بحث کو تبدیل کر دیا ہے اور عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں اور بڑے مالکان کے مفادات کے مقابلے میں زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔
