ماہرین کے مطابق فرانس اور اسپین دونوں میں حکمران جماعتوں کو بڑھتی ہوئی نوجوانوں کی بے چینی کے درمیان یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ نئی نسل کو بہتر مستقبل کی امید اور عملی مواقع فراہم کر سکتی ہیں۔ دونوں ممالک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کو نوجوانوں میں سیاسی نظام اور موجودہ سماجی و معاشی حالات سے بڑھتی ہوئی بے اطمینانی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسپین میں ہاؤسنگ بحران نوجوانوں کے لیے سب سے اہم مسائل میں شامل ہو گیا ہے۔ ملک کے تقریباً 50 شہروں میں ہزاروں افراد نے مکانات کی بڑھتی قیمتوں اور کرایوں کے خلاف احتجاج کیا۔ میڈرڈ کے مشہور پلاسا پورتا دل سول میں قائم احتجاجی کیمپ میں ایک بینر پر درج تھا، ’’آپ گھڑیوں، زیورات اور کرپٹو کرنسی پر قیاس کر سکتے ہیں، لیکن ہمارے گھر پر نہیں۔‘‘ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں کرایوں میں نمایاں اضافے نے نوجوانوں کے لیے آزادانہ زندگی اور گھر خریدنے کے امکانات مزید مشکل بنا دیے ہیں۔
میڈرڈ میں 87 سالہ خاتون ماری کارمین کی بے دخلی کا معاملہ بھی ہاؤسنگ حقوق کی تحریک میں نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا، جس نے رہائش کے حق اور بے دخلی کے خلاف عوامی حمایت کو متحرک کیا۔
دوسری جانب فرانس میں تعلیمی نظام سے متعلق نوجوانوں کا غصہ احتجاجی مظاہروں میں ظاہر ہوا۔ ہائی اسکول کے طلبہ اور پولیس کے درمیان بعض مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جبکہ توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ شمالی پیرس کے مضافات سے شروع ہونے والے مظاہرے دیگر علاقوں تک پھیل گئے۔ مظاہرین نے تعلیمی اداروں کے لیے ناکافی وسائل اور سماجی عدم مساوات پر احتجاج کیا۔
فرانس میں طلبہ احتجاج کے دوران پانچ ہزار سے زائد گرفتاریوں کے اعداد و شمار نے بھی صورتحال کی شدت کو نمایاں کیا۔ ماہرین کے مطابق فرانس اور اسپین دونوں میں ہاؤسنگ، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی مسائل نوجوان ووٹروں کے سیاسی رویوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ حکمران جماعتوں کے لیے اب اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ نوجوان نسل کے مسائل کو محض احتجاج کے بجائے پالیسی اور عملی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔
