مسک کی سانچیز پر تنقید، کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کو آمریت قرار دے دیا

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ (دوست نیوز)سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک نے ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کی جانب سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سخت نگرانی کے اعلان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مسک نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں سانچیز کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “آمر اور ہسپانوی عوام کا غدار” قرار دیا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ہسپانوی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی سخت کرے گی، خصوصاً ان پلیٹ فارمز کے خلاف جو نفرت انگیز مواد ہٹانے میں ناکام رہیں یا اپنے الگورتھمز کے ذریعے مواد میں ہیرا پھیری کریں۔ ان اقدامات میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی بھی شامل ہے۔

ایلون مسک نے وزیرِاعظم سانچیز کی ایک پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر ذاتی نوعیت کی توہین آمیز زبان استعمال کی، جس پر ہسپانوی سیاسی حلقوں میں سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب پیدرو سانچیز نے دبئی میں منعقدہ عالمی سربراہی اجلاس کے دوران ایلون مسک پر بالواسطہ تنقید کی۔ سانچیز نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ایکس کے مالک، جو خود ایک تارکِ وطن ہیں، نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے ذریعے ہسپانوی حکومت کے ایک خودمختار فیصلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، جس کا تعلق ملک میں مقیم پانچ لاکھ غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دینے سے تھا۔

وزیرِاعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہی پلیٹ فارمز غیر قانونی جنسی مواد، صارفین کی نگرانی، اور انتخابات میں مداخلت جیسے سنگین الزامات کی زد میں ہیں۔ ان کے مطابق یہ واقعات محض چند مثالیں ہیں، جبکہ حقیقت میں سوشل میڈیا پر روزانہ بنیادوں پر سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

سانچیز نے کہا کہ اگرچہ بظاہر سوشل میڈیا چھوڑنا ایک آپشن ہو سکتا ہے، لیکن بچوں اور بہت سے شہریوں کے لیے یہ ممکن نہیں۔ ان کے بقول سوشل میڈیا اب ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، اور اگر بچوں کو محفوظ بنانا ہے تو ریاست کو ڈیجیٹل دنیا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہوگا۔

حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات آئندہ ہفتے کابینہ کے اجلاس میں منظور کیے جائیں گے۔ ان میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو عمر کی مؤثر تصدیق کے نظام نافذ کرنے کا پابند بنانا اور نفرت و تقسیم انگیزی کے مواد کو ناپنے اور ٹریک کرنے کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانا شامل ہے۔

وزیرِاعظم سانچیز نے واضح کیا کہ بچوں کو ایک ایسے ڈیجیٹل ماحول میں تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا جو نشے، استحصال، تشدد، فحاشی اور ذہنی ہیرا پھیری سے بھرا ہوا ہو۔ انہوں نے کہا کہ نفرت پھیلانے کی ایک قانونی، معاشی اور اخلاقی قیمت ہونی چاہیے، اور آئندہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس ذمہ داری سے بچ نہیں سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پراسیکیوشن سروس کے ساتھ مل کر گروک، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسی کمپنیوں کی ممکنہ قانونی خلاف ورزیوں کا بھی جائزہ لے گی، اور ہسپانوی ڈیجیٹل خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے