میڈرڈ کی اعلیٰ عدالت (TSJM) نے اسپین میں جاری رہائشی بحران کے خلاف احتجاج کے طور پر پورتا دیل سول میں قائم کیمپ کو زبردستی ختم کرنے کی درخواست ایک بار پھر مسترد کردی ہے۔ عدالت کے مطابق میڈرڈ کی حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کے نمائندے کی مبینہ ’’غیر فعالیت‘‘ کے حوالے سے عائد کیا گیا الزام ثابت نہیں ہوسکا۔
میڈرڈ کی علاقائی حکومت نے عدالت سے فوری طور پر احتجاجی کیمپ خالی کرانے کی درخواست کی تھی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ پورتا دیل سول میں عوامی جگہ پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا ہے اور مرکزی حکومت کے نمائندے نے اسے ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔
تاہم ریاستی وکالت نے کیمپ کو خالی کرانے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مظاہرین کو وہاں سے ہٹانا انہیں وہاں رہنے دینے سے بھی ’’زیادہ نقصان دہ‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ کیمپ 26 ستمبر کو رہائش کے حق اور ایک 87 سالہ خاتون کو بے دخلی سے بچانے کے مطالبے کے لیے ہونے والے مظاہرے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے تقریباً 2 ہزار افراد پورتا دیل سول میں موجود ہیں اور احتجاجی کیمپ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
عدالت نے اس سے قبل بھی فوری طور پر کیمپ خالی کرانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا اقدام مظاہرین کے حقِ اجتماع کو متاثر کرسکتا ہے۔ عدالت کے مطابق احتجاج ختم کرنے یا مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال آخری راستہ ہونا چاہیے اور ایسے اقدام کے اثرات بڑی حد تک ناقابلِ واپسی ہوسکتے ہیں۔
تازہ فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ قانونی طور پر انتظامی ’’غیر فعالیت‘‘ ثابت کرنے کے لیے عموماً تین ماہ کا عرصہ گزرنا ضروری ہے، جبکہ موجودہ معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔
عدالت نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کیمپ کا جاری رہنا قانونی ہے یا غیر قانونی، بلکہ صرف میڈرڈ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ’’غیر فعالیت‘‘ کے جواز کو مسترد کیا ہے۔
میڈرڈ حکومت کے پاس اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے پانچ دن کا وقت ہے۔
