میڈرڈ(11 اکتوبر 2026دوست نیوز)اسپین کے وزیرِاعظم اور سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کے رہنما پیدرو سانچیز نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’قانونِ پوتوں‘‘ (Ley de Nietos) کے تحت ہسپانوی شہریت حاصل کرنے والے افراد کے ووٹ دینے پر عائد پابندی ختم کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ووٹ دینے کے حق پر پابندی نہیں لگائی جاتی بلکہ اس کی ضمانت دی جاتی ہے۔
ہسپانوی میڈیا ادارے کیدینا سیر (Cadena SER) کے مطابق، سانچیز نے قبل از وقت عام انتخابات کے اعلان کے بعد اپنے دوسرے انتخابی جلسے سے پونفرادا میں خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے کو روکے جس کے نتیجے میں شہریت حاصل کرنے والے افراد کو ووٹ دینے سے محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس صورتِ حال کو فیخوو اور اباسکال کی جانب سے عوامی حقوق پر حملے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً چار لاکھ ہسپانوی شہری، جو گزشتہ انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں، اس مرتبہ ووٹ نہیں دے سکیں گے۔ سانچیز نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ فیصلہ آئین کے مطابق ہے؟
انہوں نے کہا کہ کیا فرانکو آمریت کے دوران جلاوطن ہونے والے افراد کے پوتے پوتیاں ووٹ نہیں دے سکیں گے، جبکہ فرانکو دور سے وابستہ خاندانوں کی اگلی نسل کو یہ حق حاصل رہے گا؟ ان کے مطابق، یہ صورتِ حال ناانصافی کی عکاسی کرتی ہے۔
سانچیز نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے معاملے پر بھی پاپولر پارٹی کے رہنما البرتو نونیز فیخوو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے لیے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا حق بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر عوام بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں گے تو عوام کی جیت ہوگی، بصورتِ دیگر طاقت ور طبقے فائدہ اٹھائیں گے۔
وزیرِاعظم نے انتخابی مہم کے دوران رہائش کے بحران کو بھی اہم موضوع قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور دیگر شہریوں کے لیے مناسب رہائش کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ ملک کے نوجوانوں سمیت تمام شہریوں کو باعزت رہائش میسر آسکے۔ سانچیز نے دائیں بازو کی جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ غلط معلومات، توہین آمیز بیانات اور کٹوتیوں کی سیاست میں مصروف ہیں۔
