میڈرڈ: اسپین سمیت یورپ کے بیشتر ممالک میں 25 اکتوبر 2026 کو موسمِ سرما کے اوقات نافذ ہو جائیں گے، جس کے تحت گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی جائیں گی۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شہریوں کو ایک گھنٹہ اضافی سونے کا موقع ملے گا، تاہم شام کے وقت اندھیرا پہلے چھانے لگے گا۔
ہسپانوی میڈیا کے مطابق، وقت کی تبدیلی یورپی قوانین کے تحت ہر سال موسمِ گرما کے اختتام پر کی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دن کی قدرتی روشنی سے بہتر استفادہ کرنا اور روزمرہ سرگرمیوں کو سورج کی روشنی کے اوقات کے مطابق ترتیب دینا ہے۔
اسپین کے جزیرہ نما علاقوں اور بیلیئرک جزائر میں اتوار 25 اکتوبر کی صبح جب گھڑی میں رات کے 3 بجیں گے تو وقت دوبارہ رات کے 2 بجے ہو جائے گا۔ اس طرح اس رات کو سرکاری طور پر ایک اضافی گھنٹہ حاصل ہوگا۔
دوسری جانب کینری جزائر میں وقت کی تبدیلی مختلف ہوگی۔ وہاں رات کے 2 بجے گھڑی ایک گھنٹہ پیچھے کرکے دوبارہ رات کا 1 بجا دیا جائے گا۔
جدید اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ سے منسلک بیشتر آلات میں وقت خودکار طور پر تبدیل ہو جاتا ہے، بشرطیکہ خودکار وقت کی ترتیب فعال ہو۔ تاہم، شہریوں کو دیواری گھڑیوں، روایتی الارم گھڑیوں اور دیگر ایسے آلات کا وقت خود درست کرنا ہوگا جن میں خودکار تبدیلی کی سہولت موجود نہیں۔
موسمِ سرما کے اوقات اگلے چند ماہ تک برقرار رہیں گے۔ اسپین میں اگلی مرتبہ مارچ 2027 میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کی جائیں گی اور موسمِ گرما کا وقت دوبارہ نافذ ہوگا۔
وقت کی تبدیلی کے فوائد اور انسانی نیند پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے یورپ میں کئی برسوں سے بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق، نئی ترتیب کے بعد روزمرہ معمولات کو تبدیل شدہ روشنی کے اوقات کے مطابق ڈھالنا بعض افراد کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔
