وینس فیسٹیول میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

IMG_8042

وینس (دوست نیوز) اٹلی میں جاری وینس فلم فیسٹیول عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اور اسی موقع پر تقریباً پانچ ہزار افراد نے جزیرہ لِیدو کی سڑکوں پر نکل کر اسرائیل کے غزہ میں جاری مبینہ “نسل کشی” کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔

یہ احتجاجی مظاہرہ “Venice4Palestine” نامی تنظیم کی جانب سے منعقد کیا گیا، جس کا مقصد دنیا کو غزہ کی صورتحال سے آگاہ کرنا اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کرنا تھا۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور بینرز پر نعرے درج تھے

 شرکاء نے مطالبہ کیا کہ وینس فیسٹیول انتظامیہ اداکارہ گال گیڈوٹ اور اداکار جیرارڈ بٹلر کو دی گئی دعوت واپس لے، کیونکہ دونوں پر اسرائیل کی حمایت کا الزام ہے۔ یہ دونوں فنکار فلم In the hand of Dante میں شامل ہیں، جو فیسٹیول کے مقابلے سے باہر نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

فیسٹیول کے ڈائریکٹر البرٹو باربیرا نے اس حوالے سے کہا:“ہم نے غزہ اور فلسطین میں جاری مظالم پر گہرا افسوس ظاہر کیا ہے، خاص طور پر معصوم شہریوں اور بچوں کی ہلاکت پر۔ لیکن فیسٹیول بطور ادارہ کسی پر بھی سینسرشپ نہیں لگاتا۔”

فیسٹیول کے دوران بعض فنکاروں نے فلسطین کے ساتھ یکجہتی بھی ظاہر کی۔ یونانی فلم ساز یورگوس لانتھیموس نے اپنے لباس پر فلسطینی پرچم کا بیج لگایا، جبکہ مراکش کی فلم ساز مریم توزانی نے ریڈ کارپٹ پر ایسا بیگ اٹھایا جس پر لکھا تھا: “غزہ میں نسل کشی بند کرو”۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے