امریکا کی اسپین کو دھمکی: دفاعی اخراجات 2 فیصد “ناکافی”، 5 فیصدتک نہ بڑھانے پر “سنگین نتائج” کا انتباہ

میڈرڈ (30 اگست 2025) —امریکا نے ایک بار پھر اسپین کو خبردار کیا ہے کہ دفاعی بجٹ کو محض 2 فیصد تک بڑھانا کافی نہیں، اور اگر اسے 5 فیصد تک نہ لے جایا گیا تو “سنگین نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ 5 فیصد دفاعی اخراجات “مہلک صلاحیت بڑھانے اور یورپ کو اکیسویں صدی کے خطرات کے مقابلے میں خودمختار طور پر تحفظ دینے کے لیے ناگزیر ہے۔”
واشنگٹن نے اس اقدام کا سہرا براہِ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا ہے، جنہیں اس مطالبے کا اصل محرک قرار دیا گیا۔ امریکی ترجمان نے مؤقف اپنایا کہ یہ اضافہ “صدر کی کوششوں کا نتیجہ ہے”، تاہم ساتھ ہی مزید بڑھانے پر زور دیا۔
ٹرمپ کی تنبیہ: “دگنا بھرتنا پڑے گا”
امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اسپین نے ان “احکامات” پر عمل نہ کیا تو اسے ممکنہ تجارتی خطرات کے تحت “دگنا ادا” کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کے نیٹو میں سفیر میٹ وٹیکر نے بھی کہا کہ “اگر اسپین یا کوئی اور اتحادی اپنے وعدے پورے کرنے سے انکار کرتا ہے تو اسے سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔”
حالیہ برس اسپین نے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو 2024 میں 22.693 ارب یورو سے بڑھ کر اس سال 33.123 ارب یورو تک پہنچ گیا ہے—یعنی 43 فیصد سے زیادہ کا اضافہ۔ فی الوقت اسپین، بیلجیم، چیک ریپبلک، لکسمبرگ اور پرتگال سمیت چند ممالک نے نیٹو کے کم از کم 2 فیصد کے ہدف کو حاصل کیا ہے۔ تاہم امریکا کا اصرار ہے کہ 2035 تک نیٹو کے تمام رکن ممالک اپنے دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 5 فیصد تک بڑھائیں، جس میں 3.5 فیصد براہِ راست فوجی اخراجات اور 1.5 فیصد سکیورٹی کے دیگر شعبوں پر صرف ہوگا۔
یاد رہے کہ اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے دفاعی بجٹ کو 5 فیصد تک لے جانے کی امریکی تجویز کو فی الحال مسترد کر دیا ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ اور میڈرڈ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔