بارسلونا سے غزہ کے لیے سب سے بڑی عالمی فلوٹیلا روانہ ہونے کو تیار

IMG_8039

بارسلونا (30 اگست 2025) – بارسلونا کی سمندری فضائیں یکجہتی اور امید کا منظر پیش کر رہی ہیں جہاں سے اب تک کی سب سے بڑی فلوٹیلا غزہ کے لیے روانہ ہو رہی ہے۔ “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے نام سے یہ قافلہ اتوار 31 اگست کو سہ پہر 3 بجے روانہ ہوگا۔ اس کا مقصد اسرائیلی محاصرے کو توڑنے اور فلسطین میں جاری انسانی بحران کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔

اس فلوٹیلا میں 50 سے زائد کشتیاں اور 44 ممالک کے سیکڑوں کارکنان شریک ہیں۔ معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، بارسلونا کی سابق میئر ادا کولائو یورپی رکن پارلیمنٹ جاومے اسنس، کاتالونیا کی پارلیمانی رکن پیلا ر کاستیجو اور بارسلونا کے ای آر سی کونسلر جوردی کورونا بھی اس مشن کا حصہ ہیں۔ جوردی کورونا نے اعلان کیا ہے کہ وہ قافلے کی ایک کشتی کے کپتان ہوں گے۔

فلوٹیلا کے منتظمین میں بارسلونا میں مقیم فلسطینی کارکن سیف ابو کشک اور سماجی رہنما تھیگو اویلا شامل ہیں۔ قافلے کو الوداع کہنے کے لیے شہر کے ساحلی علاقے “مول دے فُستا” میں تین روزہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں کنسرٹس، بتوکادا، عوامی اجتماعات اور فلسطینی کارکنوں کے ساتھ مباحثے شامل ہیں۔ مقامی و بین الاقوامی فنکاروں اور کارکنوں نے یکجہتی کے مظاہرے کیے جن میں مکاکو، موراد، تریبادے، کلارا پیا، مردو اور ریپر 3دنان نمایاں ہیں۔

فلوٹیلا کی حمایت میں اسپین کے نامور فنکاروں اور دانشوروں نے “خاموشی کوئی آپشن نہیں” کے عنوان سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ ان میں جوردی ایوولے، لوئس توسر، کارلوس باردیم، وکتوریا لوینگو، ہدایتکار فرناندو لیون دے آرنوا، پیدرو المودووَر اور گلوکار میگوئل ریوس شامل ہیں۔ بین الاقوامی شخصیات میں امریکی اداکارہ سوزن سرنڈن اور آئرش اداکار لیام کننگھم بھی شریک ہو رہے ہیں۔

غزہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے والی یہ پہلی فلوٹیلا نہیں ہے۔ 2010 میں “ماوی مرمرہ” پر اسرائیلی فوج کے خونی حملے میں 10 ترک کارکن شہید ہوئے تھے، جب کہ بعد کی بیشتر کوششیں اسرائیلی بحریہ نے راستے میں روک لیں۔ جون 2025 میں بھی “میڈلین” نامی کشتی کو روکا گیا تھا جس میں گریٹا تھنبرگ شامل تھیں۔

اگرچہ اس سے قبل کوئی قافلہ غزہ کے ساحل تک نہیں پہنچ سکا، لیکن ان اقدامات نے ہمیشہ عالمی دباؤ اور سفارتی بحث کو جنم دیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس بار کی سب سے بڑی فلوٹیلا کا مقصد صرف غزہ تک پہنچنا نہیں بلکہ دنیا کا سکوت توڑنا اور انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے تاکہ فلسطین کے عوام کے حق میں عالمی رائے عامہ کو متحرک کیا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے