بارسلونا( 22 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز)اسپین کی پاپولر پارٹی (پی پی) کے رہنما اور بادالونا کے میئر خاویر گارسیا البیول نے ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی کے اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز کے خلاف توہین آمیز بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافات کے اظہار کا یہ مناسب طریقہ نہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کیا کہا جاتا ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ بات کس انداز اور کس جگہ کہی جاتی ہے۔
ریڈیو پروگرام ’’آکی کاتالونیا‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے گارسیا البیول نے کہا کہ اسپین میں بعض الفاظ اور طرزِ گفتگو ناگوار محسوس ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کی توہین کرنا مناسب نہیں، اور ارجنٹائن کے صدر کو اپنے عہدے کے وقار کے مطابق گفتگو کے انداز میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔ انہوں نے صحافیوں کی توہین کو بھی نامناسب قرار دیا۔
تاہم البیول نے میلی کی سیاسی تجاویز اور ان کے انتخابی مینڈیٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ارجنٹائن کے عوام نے انہیں انتخابات میں کامیاب کیا ہے، اس لیے ان کے فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق میلی ایسی شخصیت ہیں جنہیں ٹیلی ویژن پر دیکھ کر لوگ یہ جاننے کے لیے متوجہ رہتے ہیں کہ وہ آگے کیا کہیں گے۔
البیول نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ میلی کے دورۂ اسپین سے پاپولر پارٹی میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میلی کا اپنا سرکاری ایجنڈا ہے، جبکہ پی پی اپنی سیاسی ترجیحات اور منصوبے پیش کرنے میں مصروف ہے۔
انٹرویو میں گارسیا البیول نے ووکس کے ساتھ ممکنہ سیاسی اتحاد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پی پی کی خواہش تنہا حکومت بنانے کی ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر ان جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کرنا ہوگی جن کے ساتھ بعض معاملات میں اتفاق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووکس کے ساتھ بعض اداروں میں حکومت چلانے سے دنیا ختم نہیں ہوگئی۔ تاہم انہوں نے خواتین کے حقوق اور ماحولیاتی پالیسیوں سمیت بعض معاملات پر ووکس سے اختلافات کا اعتراف بھی کیا۔
دوسری جانب میڈرڈ کی سابق صدر ایسپرانزا اگیری نے میلی کی کھل کر تعریف کی۔ ان کے مطابق میلی کے سانچیز کے خلاف توہین آمیز بیانات، کانگریس میں وزیراعظم کی جانب سے ایزابیل دیاز آیوسو کے خلاف استعمال کیے گئے الفاظ سے کم اہم ہیں۔ اگیری نے کہا کہ وہ میلی کی گہری قدر کرتی ہیں اور ان کی حمایت کرتی ہیں۔
