شہزادی آف آستوریاس، لیونور دی بوربون نے جمعے کے روز موجودہ دور میں پائی جانے والی ’’کچھ مایوسی، شاید شکوک و شبہات اور شاید غم و غصے‘‘ کے مقابلے میں امید کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کے ان سوالات کو بھی اجاگر کیا کہ گہری سماجی مایوسی کے اس دور میں جوش و جذبہ کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
شہزادی نے یہ بات اووییدو کے کیمپوآمور تھیٹر میں منعقدہ شہزادی آف آستوریاس ایوارڈز کی تقریبِ تقسیم کے دوران اپنی تقریر میں کہی۔ انہوں نے موجودہ حالات میں پھیلے ہوئے ’’اس قدر افراتفری‘‘ کے تناظر میں اعتماد برقرار رکھنے کی اہمیت بیان کی اور اس بات کو نمایاں کیا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے افراد معاشرے کے لیے کس قدر اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تاج کی وارث شہزادی نے سوال اٹھایا کہ نوجوان ایسے دور میں اپنا جوش و جذبہ کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں، جہاں بے یقینی اور عدم اعتماد، عدم مساوات، تنازعات، انتہا پسندی، عوامیت پسند سیاست، ٹیکنالوجی سے جڑی جنگیں، ہائبرڈ جنگیں، تیزی سے بدلتی اور غیر مستحکم حقیقتیں، عملی مفادات پر مبنی سیاست، خطرات اور غیر یقینی صورتِ حال موجود ہیں۔ ان تمام مسائل کو سوشل میڈیا مزید بڑھا کر پیش کرتا ہے، جبکہ معاشی اعداد و شمار اور روزمرہ زندگی کے اخراجات بھی عوام کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔
انہوں نے اپنی نسل کو درپیش پیچیدہ صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ نوجوان اس تیز رفتار تبدیلی اور مایوسی سے کیسے نمٹتے ہیں، جسے بہت سے لوگ مستقبل کے امکانات کی کمی اور زندگی کی منصوبہ بندی کی ناممکن صورتِ حال سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، لوگوں کے لیے اچھی ملازمت حاصل کرنا اور اپنا گھر بنانا بھی ایک بڑا سوال بنتا جا رہا ہے۔
شہزادی لیونور نے اس دور کو بہت سے لوگوں کی محنت، کوشش اور خاموش جدوجہد کا زمانہ بھی قرار دیا۔ انہوں نے ورچوئل دنیا کے مقابلے میں حقیقی زندگی اور اصلیت کی تلاش، نیز مشین کی مبینہ بے عیب کارکردگی کے مقابلے میں انسانی فطرت کی خامیوں کی اہمیت پر بحث کا ذکر کیا۔
شہزادی نے 1981 کی تقریب کو بھی یاد کیا اور کہا کہ اس وقت ان کے والد کی عمر صرف 13 سال تھی، جبکہ آج وہ 60 سال کی عمر کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے معروف فلسفی ماریا زامبرانو کے ان خیالات کا ذکر کیا جو انہوں نے اس وقت ایوارڈ وصول کرتے ہوئے امید کے بارے میں پیش کیے تھے۔ شہزادی نے ان خیالات کو آج کے دور سے جوڑتے ہوئے نوجوانوں کے موجودہ سوالات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اپنے نام سے منسوب ایوارڈز حاصل کرنے والے افراد کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی خدمات انسانوں میں حیرت، تجسس اور اعتماد برقرار رکھنے کی صلاحیت کو زندہ رکھتی ہیں۔
شہزادی لیونور نے سوال کیا’’کیا یہ زمانہ ماضی کے دوسرے ادوار سے زیادہ تاریک ہے؟ کیا ہر سال اووییدو آکر ان خواتین اور مردوں کا شکریہ ادا کرنے کا کوئی مطلب ہے جو آج اس اسٹیج پر موجود ہیں، اور جن کی زندگی اور خدمات ہمیں اعتماد برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں؟‘‘
اس کے بعد انہوں نے خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا:’’ہاں، اس کا یقیناً مطلب ہے۔‘‘
