ارجنٹائن کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی نے اووییدو کے کیمپوآمور تھیٹر میں منعقدہ تقریب کے دوران شہزادی آف آستوریاس اسپورٹس ایوارڈ وصول کر لیا۔ ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور ان کا پُرجوش استقبال کیا۔
یہ تقریب اسپین کے بادشاہ فلیپ ششم اور ملکہ لیتیزیا کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں شہزادی لیونور، شہزادی صوفیہ اور سابق ملکہ صوفیہ بھی شریک تھیں۔ میسی اس تقریب کی نمایاں شخصیات میں شامل تھے۔ وہ فٹبال کی تاریخ میں انفرادی طور پر یہ باوقار اعزاز حاصل کرنے والے پہلے فٹبالر قرار پائے۔
جیوری نے میسی کو ان کی شاندار کھیل کیریئر، غیر معمولی صلاحیتوں، میدان میں بہترین کارکردگی اور کھیل سے باہر سماجی خدمات کے اعتراف میں یہ ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا۔ خصوصاً پسماندہ بچوں کو تعلیم اور طبی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ان کی فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہا گیا۔
ایوارڈ پیش کیے جانے سے قبل شہزادی لیونور نے اپنی تقریر میں میسی کی کامیابیوں اور شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فٹبال کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹائٹلز جیتنے والے اس کھلاڑی نے اپنی مسلسل محنت، عاجزی اور ٹیم کے ساتھ وابستگی کے ذریعے دنیا بھر میں عزت اور پذیرائی حاصل کی ہے۔
شہزادی لیونور نے میسی کے کھیل کو منفرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’’غیر معمولی کارناموں کو معمول بنا دیا‘‘۔ ان کے مطابق میسی کھیل کی صورتِ حال کو غیر معمولی مہارت سے سمجھتے ہیں، سیکنڈ کے دسویں حصے میں مؤثر ترین فیصلہ کرتے ہیں اور انفرادی شہرت کے بجائے ٹیم ورک کی اہمیت کو ترجیح دیتے ہیں۔
تقریب میں ثقافت، سائنس اور عالمی معاشرے کی دیگر نمایاں شخصیات کو بھی اعزازات دیے گئے۔ پیٹی اسمتھ کو فنون، جولین بارنز کو ادب، کرسٹینا کوچ کو بین الاقوامی ہم آہنگی اور ٹموتھی گارٹن ایش کو سماجی علوم کا ایوارڈ دیا گیا۔
اس کے علاوہ اسٹوڈیو غبلی کو ابلاغ اور انسانی علوم، ڈیوڈ کلینرمن، شنکر بالاسبرامنین اور پاسکل مائر کو سائنسی و تکنیکی تحقیق، جبکہ سوالبارڈ عالمی بیج ذخیرے کو بین الاقوامی تعاون کے شعبے میں اعزاز سے نوازا گیا۔
میسی کے لیے یہ اعزاز ان کی فٹبال کی عظیم کامیابیوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی فلاح و بہبود اور معاشرتی خدمات کے اعتراف کی علامت بھی ہے۔
