اسپین میں بارسلونا کے بعد متعدد شہروں نے بھی 24 گھنٹے کھلے رہنے والے سپر مارکیٹس اور بعض دیگر کاروباروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو محدود کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد مقامی دکانوں، روایتی کاروباروں اور محلے کی تجارتی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
بارسلونا نے رواں سال مئی میں نئے 24 گھنٹے کھلے رہنے والے غذائی سپر مارکیٹس کے لائسنس ایک سال کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بلدیاتی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد مخصوص کاروباروں کی غیر معمولی تعداد، تجارتی مراکز میں یکسانیت اور معائنوں کے دوران سامنے آنے والی بعض خلاف ورزیوں کی روک تھام ہے۔
اب تراسا نے بھی اکتوبر میں اپنے تاریخی مرکز اور اہم تجارتی شاہراہوں پر بعض کاروباروں کے لیے ایک سال کی پابندی منظور کی ہے۔ اس میں توسیعی اوقات والے سپر مارکیٹس، ٹیکنالوجی کی دکانیں، ناخنوں کی آرائش کے مراکز، لانڈریاں، ٹیلی فون مراکز اور دیگر کاروبار شامل ہیں۔ دیگر علاقوں میں پابندی بنیادی طور پر طویل اوقات تک کھلی رہنے والی غذائی دکانوں تک محدود ہے۔
سانتا کولوما دے گرامینیت اور سانت ادریا دے بیسوس بھی نئے لائسنسوں کی معطلی کے اقدامات کر چکے ہیں، جبکہ بادالونا، سانت کوگات اور سبادیل میں مزید پابندیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ سانت ادریا میں مجوزہ تجارتی ضوابط کے تحت نئے 24 گھنٹے کھلے سپر مارکیٹس پر قریبی موجودہ دکان سے 200 میٹر کے فاصلے کے اندر پابندی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
دوسری جانب، لابریگات کے علاقے میں بعض شہروں نے دکانوں کے اوقات محدود کیے ہیں۔ سانت بوئی میں سپر مارکیٹس کو رات 11 بجے سے صبح 7 بجے تک بند رکھنا ضروری ہے، جبکہ کورنییا میں زیادہ تر غیر ضروری تجارتی مراکز کو رات 10 بجے تک بند کرنا ہوتا ہے۔ لوسپیتالت نے بھی 2026 میں رات کے اوقات میں دکانیں بند رکھنے کے نئے ضوابط منظور کیے ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف لائسنس محدود کرنے سے مقامی تجارت بحال نہیں ہوگی۔ مہنگے کرائے، بڑھتے اخراجات اور نئے کاروباری افراد کی کمی بھی چھوٹی دکانوں کے لیے بڑے مسائل ہیں۔ ماہرین کے مطابق مقامی کاروباروں کی مدد، ڈیجیٹل سہولیات، تربیت اور مشترکہ خریداری کے نظام کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔
