جہلم(نمائندہ خصوصی)جہلم کے مشہور گاؤں لوٹا میں ثقافتی رنگوں کو اجاگر کرنے کےلیے بیل میلہ کا انعقاد کیا گیا. بلجیئم کے صوبہ اینٹورپن میں چوہدری اویس طارق آف کھائی نے اپنے گاؤں لوٹا میں بیل میلہ کا افتتاح ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کے چیئرمین ڈاکٹر چوہدری پرویز اقبال لوہسر (تمغۂ خدمت) کے ہاتھوں کرواتے ہوۓ میلہ میں سماں باندھ دیا. سالانہ بیل میلہ
میں علاقے کے کسانوں کی بڑی تعداد نے اپنے بیلوں کے ہمراہ شرکت کرکے پیغام دیا ہے کہ ایسے میلے ثقافت تہذیب وتمدن اور کاروبار کو فروغ دینے میں نمایاں کردار کے حامل ہیں. زرعی روایات، دیہی ثقافت اور مقامی رسم و رواج کا بھرپور امتزاج علاقے بھر میں دلچسپی کا شاہسانہ ثابت ہوا.
اس موقع پر ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں ایسے ثقافتی اور روایتی میلوں کا انعقاد قابلِ تحسین ہے، کیونکہ یہ ہماری قدیم روایات، دیہی ثقافت اور زرعی ورثے کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے میلے کے منتظمین کی کاوشوں کو زبردست انداز میں سراہا اور کہا کہ ایسے پروگراموں کے ذریعے نئی نسل کو اپنی ثقافت اور روایات سے روشناس کرایا جا سکتا ہے۔
میلے کے میزبان چوہدری طارق اویس آف کھائی نے میلے میں آۓ تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوۓ. بیل میلہ کو علاقائی رسم و رواج کی شان قرار دیا. انھوں نے کہا کہ یہ ریت ہمارے اباؤ اجداد نے شروع کرکے جانوروں کے ساتھ پیار اور ہمدردی کے جذبے کو زندہ کیا. انھوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کےلیے ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے. چوہدری اویس طارق آف کھائی نے برسلز کی معروف شخصیت حاجی قمر زمان آف سیکرآلی اور اسپین کی معروف شخصیت چوہدری زاہد اور نوابزادہ اصغر علی کو خوش آمدید کہا. مہمانوں کی آمد پر ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے اور پاکستان زندہ باد افواج پاکستان زندہ باد کے نعروں سے فضا گونج اٹھی. میلے میں مختلف رنگوں کے بیلوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا. کچھ کسانوں نے اپنی والہانہ محبت اور بیل دوستی پر اپنے واقعات سناکر ماحول میں دلچسپی پیدا کر دی. کسانوں نے موجودہ حکومت سے اپیل کی کہ وہ زرعی شعبوں کی ترقی کےلیے ایسے نمائشی پروگراموں کی حوصلہ افزائی کریں. نمائش میں آۓ مہمانوں اور علاقہ مکینوں نے چوہدری اویس طارق آف کھائی کی بیل میلہ نمائش کو علاقے کی شان قرار دیتے ہوۓ انکے جذبہ کو خراج تحسین پیش کیا. میلے میں سیاسی سماجی کاروباری حلقوں کے علاوہ نئی نوجوان نسل کی فہمیدہ شخصیات نے بھرپور شرکت کی. وہاں آئے لوگوں نے بیل میلہ کو آپس میں متحد ہونے کی مثبت وجہ قرار دی اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا.
یہ میلہ مقامی روایات کے فروغ، دیہی ثقافت کے تحفظ اور ملکی زرعی ورثے میں کسانوں کے اہم کردار کو اجاگر کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا
