اسپین کے صوبے تولیدو میں بدھ، 28 اکتوبر کو پیش آنے والے ہولناک ٹرین حادثے نے متعدد خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیا۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ آنا مارٹینا کونتے گرانڈ بھی شامل ہیں، جو اپنے گھر اور آبائی وطن سے دور اسپین کے علاقے اندلس میں مقیم تھیں۔ حادثے کے وقت وہ اپنے بھائی کے ساتھ سفر کر رہی تھیں، جو خود بھی اس حادثے میں زخمی ہوا اور تاحال اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
آنا مارٹینا کا تعلق ارجنٹائن کے شہر سان خوان سے تھا۔ وہ کچھ عرصے سے اسپین میں رہ رہی تھیں اور اپنی زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر چکی تھیں۔ حادثے کے روز وہ اپنے بھائی زکریاس کے ہمراہ ٹرین میں سوار تھیں۔ دونوں حادثے کا شکار ہونے والی ٹرینوں میں سے ایک کی بوگی نمبر سات میں موجود تھے۔ تصادم کے نتیجے میں آنا مارٹینا جانبر نہ ہو سکیں، جبکہ ان کے بھائی کو زخمی حالت میں تولیدو کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔
دونوں بہن بھائی نے بیونس آئرس یونیورسٹی سے پوڈیاٹری (پاؤں کی بیماریوں کے علاج) کی تعلیم حاصل کی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے آبائی شہر سان خوان میں ایک مشترکہ کلینک بھی قائم کیا، جہاں آنا مارٹینا نے 2025 تک مریضوں کا علاج کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اسپین منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور اندلس میں سکونت اختیار کر لی۔
ارجنٹائن کی وزارتِ خارجہ نے حادثے میں اپنے ایک شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ وزارت کے مطابق ایک اور ارجنٹائنی شہری، 51 سالہ آگسٹین رانداتسو، تاحال لاپتا ہیں۔ وہ کاروباری کام کے سلسلے میں تیز رفتار ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ ان کے اہلِ خانہ بدھ سے ان کی تلاش میں ہیں، جبکہ ان کی ساتھی نے سوشل میڈیا پر لوگوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، میڈرڈ سے سیویل جانے والی رینفے کی تیز رفتار ٹرین کی اسی پٹڑی پر موجود ایک رکی ہوئی ایریو ٹرین سے ٹکر ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات میں ریلوے کے حفاظتی نظام میں خرابی اور ٹرین کو دوبارہ چلنے کی اجازت دینے میں ممکنہ غلطی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حادثے میں کم از کم 68 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔
آنا مارٹینا کی موت نے ان کے خاندان کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے، جو اپنے وطن سے دور پیش آنے والے اس سانحے کے بعد ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کر رہا ہے۔
