اسپین کے صوبے تولیدو کے علاقے اُردا میں پیش آنے والے ہولناک ٹرین حادثے میں 36 سالہ اے وی ای ٹرین ڈرائیور انتونیو آسیدو مینیسیس بھی جاں بحق ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جہاں متعدد افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسافروں کی جانیں بچانے کے لیے آخری لمحے تک ٹرین روکنے کی کوشش کی۔ تاہم، ان کی آخری کارروائیوں اور حادثے کے وقت پیش آنے والے واقعات کی ابھی تک سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
انتونیو رینفے (Renfe) کی تیز رفتار اے وی ای ٹرین چلا رہے تھے، جو ریلوے لائن پر رکی ہوئی ایریو (Iryo) ٹرین سے ٹکرا گئی۔ ان کی موت نے اہلِ خانہ، ساتھیوں اور جاننے والوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک پیغام میں کہا گیا کہ انتونیو نے خطرے کے باوجود زیادہ سے زیادہ جانیں بچانے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کیں۔ انہیں ایک ہیرو اور فرض شناس پیشہ ور قرار دیتے ہوئے اعلیٰ اعزازات دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
انتونیو 1990 میں میڈرڈ کے شہر موستولیس میں پیدا ہوئے تھے۔ ریلوے سے ان کا تعلق خاندانی تھا؛ ان کے والد بھی ٹرین ڈرائیور تھے، جبکہ ان کے دادا رینفے میں الیکٹریشن کے طور پر کام کرتے تھے۔ انتونیو نے 2012 میں ریلوے کے شعبے میں تربیت حاصل کرنا شروع کی اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسی پیشے کے لیے وقف کر دیا۔ انہیں فوٹوگرافی، خصوصاً ٹرین کے سفر کے دوران قدرتی مناظر کی تصاویر بنانے کا بھی شوق تھا۔
اطلاعات کے مطابق، انتونیو نے حادثے سے قبل صبح 8 بج کر 31 منٹ پر ریلوے کنٹرول سینٹر کو حفاظتی نظام ایل زیڈ بی (LZB) میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔ تقریباً پانچ منٹ بعد انہیں نظام دوبارہ شروع کرکے معمول کے مطابق سفر جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد اے وی ای ٹرین رکی ہوئی ایریو ٹرین سے ٹکرا گئی۔ اب تحقیقات میں یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ حادثے سے پہلے کیا ہوا اور ڈرائیور کو خطرے سے نمٹنے کا کتنا وقت ملا۔
انتونیو کے جاننے والے گیلرمو دیل ویلے نے انہیں محتاط، مہربان اور مثالی انسان قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ حادثے کی ذمہ داری صرف کسی ایک ملازم پر ڈالنے کے بجائے ریلوے کے حفاظتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
