اٹلی کی سپریم کورٹ نے 18 سالہ ثمن عباس کے قتل کے مقدمے میں والدین سمیت پانچوں رشتہ داروں کو دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھا ہے۔ ثمن کو 2021 میں نوویلارا میں اس لیے قتل کیا گیا تھا کیونکہ اس نے پاکستان میں طے شدہ شادی سے انکار کر دیا تھا۔
عدالت نے والدین نازیہ شاہین اور شبّر عباس، کزنز اعجاز اکرام اور نعمان الحق کو عمر قید جبکہ چچا دانش حسنین کو 22 سال قید کی سزا برقرار رکھی۔
ثمن نے 2020 میں شادی کی مخالفت کی تھی اور سوشل سروسز سے مدد مانگی تھی، جس پر اسے پناہ گاہ بھیجا گیا اور اس نے والدین کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کروائی۔ تاہم اپریل 2021 میں وہ گھر واپس آگئی اور پھر لاپتہ ہوگئی۔ سی سی ٹی وی میں پانچ افراد کو مشکوک سرگرمیوں میں دکھایا گیا۔ والدین پاکستان فرار ہوگئے لیکن بعد میں گرفتار کر کے اٹلی بھیجے گئے۔ ثمن کی لاش نومبر 2022 میں ایک فارم ہاؤس سے برآمد ہوئی، جس کی گردن ٹوٹی ہوئی تھی۔
وزیراعظم جارجیا میلونی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تکلیف دہ عمل ختم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ثمن کو اس کی آزادی پر قتل کیا گیا اور عدالت کا فیصلہ زندگی تو واپس نہیں لا سکتا، لیکن مجرموں کو سزا ملنا ضروری تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اٹلی میں مبینہ ثقافتی یا مذہبی وجوہات پر عورتوں کی آزادی اور وقار سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔
ثمن 2016 میں پاکستان سے اٹلی آئی تھی۔ اس کا ایک لڑکے سے تعلق تھا اور بوسے کی تصویر سامنے آنے پر والدین ناراض تھے۔ والدین اسے پاکستان شادی کے لیے بھیجنا چاہتے تھے، جس پر اس نے انکار کیا۔ گھر واپسی کے بعد اسے دھوکے سے بلایا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔ فرار ہونے والے ملزمان کو پیرس، سپین اور پاکستان سے گرفتار کیا گیا۔ والد نے عدالت میں اپنے خلاف الزامات کی تردید کی تھی۔
