پاپولر پارٹی کی حکومت والی کئی خودمختار کمیونٹیز  عربی زبان اور مراکشی ثقافت کے تعلیمی پروگرام کو ختم کرنے جارہی ہیں

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ(دوست مانیٹرنگ ڈیسک)اسپین کی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کے دباؤ نے پاپولر پارٹی کی حکومت والی کئی خودمختار کمیونٹیز کو عربی زبان اور مراکشی ثقافت کے تعلیمی پروگرام کو ختم کرنے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ وہی پروگرام ہے جو 2012 میں اس وقت کے وزیراعظم ماریانو راخوئے کی حکومت نے شروع کیا تھا اور گزشتہ سال ملک بھر کے 400 تعلیمی مراکز میں 8 ہزار کے قریب طلبہ نے اس میں حصہ لیا تھا۔

Screenshot

اس سال سب سے پہلے مرسیا اور میڈرڈ نے اس پروگرام کو بند کر دیا، جبکہ دیگر کئی کمیونٹیز میں بھی اسے ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کاتالونیا میں، جہاں اس کی بندش زیر غور نہیں، علاقائی حکومت نے وزارتِ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ انتہا پسند گروہوں کی دھمکیوں کے باعث متعلقہ اسکولوں کے نام ظاہر نہ کیے جائیں۔ وزارت نے اس درخواست پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر کے اسکولوں کی فہرست ویب سائٹ سے ہٹا دی ہے۔

مرسیا کی رہائشی فاطمہ (فرضی نام) جن کے دو بچے اس پروگرام میں شامل تھے، کہتی ہیں کہ اس سے بچوں کو اپنی خاندانی زبان اور شناخت سمجھنے میں مدد ملتی تھی، ان کے لیے یہ انضمام کا ایک مؤثر ذریعہ تھا اور اسکول اور والدین میں رابطے کا پل بھی بنتا تھا۔ وہ چاہتی ہیں کہ پروگرام دوبارہ بحال ہو۔

Screenshot

یہ پروگرام اسپین اور مراکش کے درمیان 2012 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت شروع ہوا تھا جس کا مقصد دونوں ممالک میں زبان اور ثقافت کے باہمی فروغ کو آسان بنانا تھا۔ اسپین نے اس منصوبے کے تحت مراکش میں اپنے 11 اسکول مضبوط کیے، جبکہ اسپین کے اندر یہ پروگرام خاص طور پر ان سرکاری اسکولوں میں چلایا گیا جہاں بڑی تعداد میں مراکشی اور عرب نژاد طلبہ پڑھتے ہیں۔ گزشتہ سال اسپین میں 1,97,000 سے زائد مراکشی نژاد طلبہ زیر تعلیم تھے۔

کئی اسکولوں کے مدیران کے مطابق پروگرام نے کبھی تنازع پیدا نہیں کیا اور نہ ہی اس کا مذہبی رنگ ہے۔ کلاسیں عموماً شام کے وقت بطور اضافی سرگرمی ہوتی ہیں اور اس کا کوئی مالی بوجھ نہ والدین پر پڑتا ہے، نہ اسکول یا علاقائی حکومتوں پر۔ اساتذہ کی تنخواہیں مراکش منتخب فنڈ سے ادا کرتا ہے۔ زیادہ تر طلبہ عرب نژاد ہوتے ہیں، مگر دیگر پس منظر کے بچے بھی شوق سے شامل ہوتے ہیں۔

گزشتہ سال یہ پروگرام 12 خودمختار کمیونٹیز کے تقریباً 400 اسکولوں میں موجود تھا، مگر مرسیا اور میڈرڈ میں بندش کے بعد اب یہ 10 علاقوں کے 320 مراکز تک محدود رہ گیا ہے۔ وزارتِ تعلیم کے ذرائع خبردار کرتے ہیں کہ یہ تعداد مزید کم ہو سکتی ہے، خصوصاً ان خطوں میں جہاں پیپلز پارٹی کو قانون سازی کے لیے ووکس کی حمایت درکار ہے۔

ارگون میں بھی صورتحال غیر یقینی ہے، جبکہ کینری آبادی میں اسے برقرار رکھنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ وزارت کے مطابق کچھ علاقوں میں پیپلز پارٹی، انتہا دائیں بازو کے اسلام مخالف بیانیے کے سامنے جھک رہی ہے، حالانکہ پروگرام خود انہی کی حکومت نے شروع کیا تھا اور مکمل طور پر اختیاری ہے۔

مرسیا نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ بندش ووکس کے ساتھ بجٹ معاہدے کی شرط تھی۔ میڈرڈ نے پروگرام کے بارے میں معلومات اور اساتذہ کی سلیکشن پر اعتراضات اٹھائے، حالانکہ وزارت کا کہنا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔ میڈرڈ نے تو چند ہفتے پہلے اگلے تعلیمی سال کے لیے درکار اساتذہ کی تعداد تک بھی بتا دی تھی۔

کاتالونیا میں بھی ووکس اور دیگر انتہا پسند گروہ پروگرام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کچھ اسکولوں کو دھمکیوں کے بعد حکومتِ کاتالونیا نے وزارت سے درخواست کی کہ اسکولوں کے نام عوامی فہرست سے ہٹا دیے جائیں۔ وزارت نے اب یہ تفصیلات پورے ملک کے لیے پوشیدہ کر دی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے