ناتھالی سالازار کی گمشدگی کو سات سال،اہلِ خانہ آج بھی حقیقت جاننے کی جدوجہد میں

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ، 20 نومبر 2025 (دوست مانیٹرنگ ڈیسک) ناتھالی سالازار کی گمشدگی کو سات سال گزر چکے ہیں، مگر اس کے اہلِ خانہ آج بھی حقیقت جاننے کی جدوجہد میں ہیں۔ ناتھالی، 28 سالہ ویلنسیا کی رہائشی، 2 جنوری 2018 کو پیرو کے پہاڑی علاقے میں لاپتہ ہوئی تھی۔ وہ ایک دن پہلے اپنے گھر والوں کو اطلاع دے کر ماچو پچو کے قریب ماراس، مورائے اور سالیناس کے علاقے میں سیر کے لیے نکلی تھی، لیکن واپس نہ لوٹی۔

سرکاری مؤقف کے مطابق ناتھالی اسی روز وادیٔ مقدسِ انکا میں ایک زپ لائن کے حادثے میں ہلاک ہوئی۔ تفریحی مقام کے دو انسٹرکٹرز، لوزگارڈو اور جینور، کو غیر ارادی قتل، شواہد چھپانے، رپورٹ نہ کرنے اور سامان چوری کرنے کے الزام میں گیارہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جسے بعد میں کم کر کے سات سال چھ ماہ کر دیا گیا۔ پولیس اور عدالت کا کہنا ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا اور ملزمان نے خوف کے باعث لاش ٹھکانے لگا دی۔

لیکن ناتھالی کے اہلِ خانہ اس بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق علاقے میں کی گئی نجی تحقیقات میں حادثے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ نہ خون کے نشانات، نہ ٹوٹی ہوئی تار، نہ ڈھیلا بولا، نہ کوئی ایسا نشان جو زپ لائن کے حادثے کی طرف اشارہ کرے۔ خاندان کے بقول “حادثہ ہوا ہی نہیں”۔

خاندان کی جدوجہد

پریسا ابیریکا کے پڈکاسٹ ان پَراڈيرو دیسکونوسیدو کے تازہ ترین حصے میں ناتھالی کی والدہ، الیگزینڈرا، اور بہن، تمارا، اپنی دردناک کہانی بیان کرتی ہیں۔ دونوں کے مطابق پیرو میں تلاش کے دوران پولیس کی “غفلت، غلط بیانی اور لاپروائی” نے حالات کو مزید مشکل بنا دیا۔

الیگزینڈرا کے مطابق کوسکو کی گمشدہ افراد کی پولیس نے ابتدا سے سنجیدگی نہیں دکھائی۔ “میں فون کرتی رہی۔ جواب ملا کہ پریشان نہ ہوں، آپ کی بیٹی شاید پہاڑوں میں نشے میں ہو گی، خود آ جائے گی۔ پھر فون بند کر دیا گیا۔ کوئی تلاش شروع ہی نہیں ہوئی۔” خاندان کو مجبوراً گیارہ دن بعد پہلا سفر کرنا پڑا، اور بعد میں ایسے پانچ سفر کیے۔

بیانات میں تضاد

ملزمان نے اپنے اعتراف میں کہا کہ وہ ناتھالی کی موت سے خوفزدہ ہو کر لاش پھینک آئے۔ مگر خاندان ان کے بیانات کو جھوٹ قرار دیتا ہے۔ الیگزینڈرا کے مطابق پہلی بیان میں کہا گیا کہ ناتھالی 13:30 پر مر گئی تھی، جبکہ دوسری بیان میں وقت 15:00 بتایا گیا۔ ادھر ناتھالی کے فون کا ریکارڈ دکھاتا ہے کہ وہ 12:58 پر ایک دوست سے بات کر رہی تھی اور اس کے بعد بھی گفتگو جاری تھی، ایسے وقت میں جب ملزمان کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے ہی مر چکی تھی۔

خطرناک علاقہ اور خاموش سچ

پڈکاسٹ میں خاندان بتاتا ہے کہ جس علاقے میں ناتھالی لاپتہ ہوئی وہ منشیات فروشوں اور خواتین کی اسمگلنگ کے گروہوں کے زیر اثر ہے، جہاں لوگ خوف کے باعث کھل کر بات نہیں کرتے۔ ان کے مطابق تحقیقات میں “جھوٹ اور کرپشن” سامنے آئی ہے، اور کئی اہم پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا۔

الیگزینڈرا کہتی ہیں کہ بیٹی کی گمشدگی ان کی زندگی کا نہ ختم ہونے والا دکھ بن چکی ہے۔ “میں کبھی کبھی بے گھر لوگوں کو دیکھ کر دوڑتی ہوں، سوچتی ہوں شاید میری بیٹی ہو، شاید اسے اپنی شناخت یاد نہ ہو۔”

ناتھالی سالازار کا معاملہ اب بھی معمہ ہے۔ نہ اس کی باقیات مل سکیں اور نہ ہی اس کے آخری لمحات کی کوئی واضح بات سامنے آ سکی۔ خاندان اب بھی ایک ہی سوال سے دوچار ہے: اصل میں ناتھالی سالازار کے ساتھ کیا ہوا؟

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے