پراسرار کمپنی کی مشکوک پروازیں … سیکڑوں فلسطینی غزہ سے مختلف ممالک منتقل
Screenshot
اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی رضاکارانہ ہجرت کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایسٹونیا کی ایک پراسرار مشاورتی کمپنی نے جس کا مالک اسرائیلی ہے، 350 فلسطینیوں کو انڈونیشیا، ملائیشیا اور جنوبی افریقا منتقل کیا۔

یہ گروپ تین الگ الگ پروازوں کے ذریعے ایلات کے کرایہ شدہ پروازوں پر روانہ ہوئے۔ کمپنی کا تعلق رضاکارانہ ہجرت سے متعلق اسرائیلی بیورو سے بتایا گیا۔ یہ اسرائیل-ایسٹونیا کی دہری شہریت رکھنے والے ایک شخص کے زیر انتظام ہے جبکہ اصل کمپنی ایسٹونیا میں رجسٹرڈ ہے۔
کمپنی نے فلسطینیوں سے تقریباً 2000 ڈالر فی کس بطور کرایہ وصول کیے۔ ان مسافروں کو پہلے مخصوص مقامات پر جمع کیا گیا، پھر کرم ابو سالم بارڈر کراسنگ کے ذریعے اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی سیکیورٹی چیک کے بعد انہیں رامون ایئرپورٹ لے جایا گیا اور کرایہ شدہ پروازوں پر سوار کیا گیا۔ اکثر پروازوں کی تفصیلات صرف 24 گھنٹے پہلے فراہم کی گئیں۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر ظاہری نام “المجد أوروبا” ہے جس کے دفاتر جرمنی اور مشرقی بیت المقدس میں ہیں مگر حقیقی رجسٹریشن Talent Globus ایسٹونیا میں ہے۔ ویب سائٹ پر نہ فون نمبر ہیں نہ پتہ، اور شراکت داروں کی فہرست خالی ہے۔ ویب سائٹ نے دعویٰ کیا کہ یہ مشاورتی اور ورک فورس بھرتی کا کام کرتی ہے، مگر فراہم کی گئی تصاویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں۔
اس کمپنی کے بانی تومر یانار لنڈ ہیں، جنہوں نے پچھلے دس سالوں میں برطانیہ میں چار کمپنیز قائم کیں، جن میں سے تین غیر فعال ہو چکی ہیں۔ یانار لنڈ کی پیدائش 1989 میں ہوئی اور وہ اسرائیل اور ایسٹونیا کی دہری شہریت رکھتے ہیں۔
فلسطینی افراد سے 1400 سے 2700 ڈالر فی کس وصول کیے گئے، اور بعض اوقات 5000 ڈالر تک لیے گئے تاکہ سفر کو جلد ممکن بنایا جا سکے۔
حالیہ دو سالہ جنگ کے دوران عرب اور بین الاقوامی حلقوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کے ہجرت کے ممکنہ اقدامات پر تشویش ظاہر کی تھی۔ متعدد اسرائیلی وزراء نے کھل کر کہا کہ غزہ کا مسئلہ صرف اس کے باشندوں کی رضاکارانہ ہجرت سے حل کیا جا سکتا ہے