اسپین کی پہلی “باغی بوربون” شہزادی: اینفانتا یولالیا کی زندگی، جدوجہد اور یادداشتیں
Screenshot
میڈرڈ، 24 نومبر 2025/اینفانتا ماریا یولالیا دی بوربون، ملکہ ازابیل دوم کی سب سے چھوٹی بیٹی، اپنی پیدائش سے ہی شاہی خاندان کے لیے ایک غیر روایتی اور بے باک شخصیت ثابت ہوئیں۔ 12 فروری 1864 کو پیدا ہونے والی یولالیا سے اُس وقت کے اسپین کو ولی عہد کی توقع تھی، مگر بیٹی کی پیدائش نے سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی۔ جنرل پرِیم اور ڈیوک آف مونتپنسئیر جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد نے بھی اس موقع کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
1868 کے انقلابی واقعات کے بعد شاہی خاندان کو فرانس میں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ پیرس میں گزرا ہوا یہ زمانہ یولالیا کی آزادی پسند طبیعت کو پروان چڑھانے کا سبب بنا۔ لیکن 1874 میں بادشاہت کی بحالی کے بعد انہیں واپس اسپین آنا پڑا، جہاں ان کے بھائی بادشاہ الفونسو دوازدہم نے ان کی شادی اپنے ہی کزن انتونیو دی اورلیان سے طے کر دی۔
شادی جلد ہی ناکام ثابت ہوئی۔ انتونیو متعدد خواتین کے ساتھ تعلقات رکھتا تھا اور یولالیا کی دولت بے دردی سے خرچ کرتا رہا۔ بالآخر 1900 میں یولالیا نے دو بچوں کے ساتھ الگ ہو کر طلاق کا مطالبہ کیا، جو اس دور میں شاہی خاندان کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔ طویل قانونی جدوجہد کے بعد وہ اسپین کی تاریخ میں شاہی خاندان کی پہلی مطلقہ خاتون بنیں۔
اس کے بعد یولالیا نے یورپ بھر میں سفر کیا اور آزادانہ زندگی گزاری۔ وہ ذہنی طور پر روشن خیال تھیں اور ادیبوں، دانشوروں اور کئی جمہوری خیالات رکھنے والوں سے قریبی تعلق رکھتی تھیں۔ 1911 میں انہوں نے اپنی کتاب Au fil de la vie شائع کی، جس میں خواتین کے حقوق، مذہب، سیاست اور یورپی بادشاہتوں کے زوال پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ شاہی دربار نے کتاب کو غیر اخلاقی قرار دے کر ان پر اسپین میں داخلے پر پابندی لگا دی۔
1921 میں گیارہ سالہ جلاوطنی کے بعد وہ اپنے بھتیجے بادشاہ الفونسو سیزدہم کی مداخلت پر وطن واپس آئیں۔ لیکن سیاسی عدم استحکام، مراکش کی جنگ اور آنے والی آمریت نے انہیں اپنے ملک کی سمت پر مایوسی میں مبتلا کر دیا۔
1930 میں یولالیا دوبارہ اسپین چھوڑ کر پیرس چلی گئیں، جہاں 1931 میں دوسری جمہوریہ کے قیام کی خبر نے انہیں حیران نہ کیا۔ 1935 میں ان کی یادداشتیں Memorias de Doña Eulalia de Borbón شائع ہوئیں، جنہوں نے شاہی خاندان میں ہلچل پیدا کر دی۔ انہوں نے لکھا کہ اسپین نے بادشاہت کے خاتمے میں غیر معمولی شائستگی دکھائی اور ایک گولی تک نہیں چلی۔
الفونسو سیزدہم جلاوطنی میں 1941 میں انتقال کر گئے، جبکہ ان کی پھوپھی یولالیا نے جنگِ عظیم کے بعد اپنا آبائی ملک دوبارہ دیکھا۔ فرانکو حکومت نے انہیں رہائش اور سہولیات فراہم کیں۔ اپنی طویل زندگی میں وہ پندرہ یورپی بادشاہتوں کے خاتمے کی گواہ بنیں، پانچ پوپ سے ملیں اور اسپین کی بدلتی ہوئی تاریخ کے کئی اہم ادوار دیکھے۔
اینفانتا یولالیا 8 مارچ 1958 کو 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی تدفین شاہی اعزاز کے ساتھ ایل اسکوریال میں ہوئی۔ بعد ازاں ان کی یادداشتوں کا نیا ایڈیشن بھی شائع ہوا، جس میں وہ اپنے بارے میں لکھتی ہیں:
“خدا نے مجھے اسپینی بنایا اور میں اپنے آخری دن تک خود کو اسپینی ہی محسوس کروں گی۔”