کاتالونیا میں 2019 سے اب تک زبردستی کی دُرجن بھر شادیاں، 80 کے قریب بچیوں کو ممکنہ خطرات

Screenshot

Screenshot

بارسلونا (دوست مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ پانچ برسوں میں کاتالونیا میں زبردستی کی کم از کم بارہ شادیاں انجام پا چکی ہیں، جبکہ تقریباً اسی کے قریب ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں لڑکیوں کو ممکنہ طور پر جبراً شادی کے خطرے کا سامنا تھا۔ یہ اعداد و شمار موسوس دی اسکوادرا نے فراہم کیے ہیں۔

رواں سال 2025 کے آغاز سے اب تک چھ کیس درج ہوئے، جن میں دو شادیاں واقعی کرائی گئیں جبکہ چار معاملات میں پولیس نے بروقت کارروائی کر کے انہیں روک لیا۔ ان میں ناوارا کی اس کم عمر لڑکی کا کیس شامل نہیں جسے مبینہ طور پر اس کے والدین نے رقم اور وہسکی کی بوتلوں کے عوض مولرسا کی ایک فیملی کو بیچ دیا۔ موسوس اس کیس کو بھی جلد زبردستی شادی کے خانہ میں شامل کریں گے۔

2025 میں دو شادیاں مکمل ہوئیں

2025 کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایک 19 سالہ لڑکی نے اپنی جبری شادی کی شکایت پولیس میں درج کرائی، جبکہ چار نابالغ لڑکیوں (11، 14 اور 15 سال کی دو بچیاں) کو ممکنہ خطرے کے طور پر شناخت کیا گیا اور بروقت مداخلت سے ان کی شادیوں کو روکا گیا۔

گزشتہ سال بھی دو زبردستی کی شادیاں ریکارڈ ہوئیں اور پانچ ممکنہ کیس سامنے آئے۔ 2019 سے 2023 تک ہر سال دس سے پندرہ کے درمیان ممکنہ کیس درج کیے گئے، جبکہ جبری شادیوں کی تعداد کبھی بھی تین سے زائد نہیں رہی۔ 2019 اور 2021 میں کوئی جبری شادی ریکارڈ نہیں ہوئی۔

موسوس کے مطابق، جبری شادیوں کے زیادہ تر متاثرین لڑکیاں یا خواتین ہوتی ہیں۔ 2009 سے اب تک صرف تین ایسے مرد سامنے آئے جنہیں زبردستی شادی پر مجبور کیا گیا۔ ان میں ایک 27 سالہ نوجوان بھی شامل ہے جو اس سال خود پولیس اسٹیشن آیا اور بتایا کہ اسے شادی پر مجبور کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق تمام کیسز میں تقریباً 52 فیصد متاثرین نابالغ ہیں، اگرچہ ہر سال یہ تناسب مختلف رہا ہے۔

پولیس کے مطابق جبری شادی کے واقعات کو پکڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اکثر بالغ متاثرین خود پولیس کے پاس آ کر مدد مانگتے ہیں۔ اس سال بھی تین بالغ افراد نے پولیس کو بتایا کہ ان کے اہل خانہ انہیں اپنے ملک واپس لے جا کر زبردستی شادی کرانے والے تھے۔ ایسے کیسز میں پولیس فوری کارروائی کرتی ہے، جیسے کہ پاسپورٹ ضبط کرنا۔

2019 سے 2024 کے درمیان نصف متاثرین نے خود پولیس سے رابطہ کیا، جبکہ 16 فیصد کیس اسکولوں کے ذریعے سامنے آئے۔ پندرہ فیصد کیسز میں معلومات سوشل سروسز سے ملیں۔ چند کیس موسوس کی اپنی کارروائی، خاندان کے افراد، مقامی پولیس، صحت کے اداروں اور سماجی تنظیموں کے ذریعے سامنے آئے۔

جن کیسز میں شادی ابھی نہیں ہوئی ہوتی، پولیس والدین کو بطور گواہ طلب کرتی ہے، انہیں بتایا جاتا ہے کہ جبری شادی ایک جرم ہے، اور ان کا مسلسل فالو اَپ کیا جاتا ہے، اگرچہ قانونی کارروائی اس وقت تک نہیں کی جاتی جب تک جرم سرزد نہ ہو۔

موسوس نے حال ہی میں پوری کاتالونیا کی پولیس اسٹیشنوں میں آگاہی مہم چلائی ہے جس میں پمفلٹ اور پوسٹرز کے ذریعے بتایا جا رہا ہے کہ جبری شادی صنفی تشدد کی ایک شکل اور قابلِ سزا جرم ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے