18 سے 24 سال کے 73 فیصد نوجوانوں کا خیال ہے کہ ’’کاتالونیا میں مہاجرین بہت زیادہ ہیں‘‘سروے
Screenshot
بارسلونا(دوست مانیٹرنگ ڈیسک)کاتالونیا کی سرکاری سروے ایجنسی سینٹر آف اوپینیئن اسٹڈیز (CEO) کے تازہ بارومیٹر کے مطابق، مجموعی طور پر 60 فیصد کاتالونیائی شہریوں کا خیال ہے کہ خطے میں ’’مہاجرین بہت زیادہ‘‘ ہیں، جبکہ یہ رائے نوجوانوں (18 تا 24 سال) میں بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اسی سروے میں 68 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے ’’ملک میں داخل ہونے والوں پر کنٹرول کھو دیا ہے‘‘۔ تاہم ساتھ ہی 70 فیصد شہری یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ’’مہاجرین کے خلاف حد سے زیادہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے‘‘۔ مزید یہ کہ 68 فیصد کے مطابق مہاجرین ’’کاتالان معیشت کو چلانے میں نہایت قیمتی کردار ادا کرتے ہیں‘‘ اور 58 فیصد کا خیال ہے کہ ’’مہاجرین کے بغیر کاتالونیا کا مستقبل مزید خراب ہوتا‘‘۔
عمر کے لحاظ سے 25 سے 34 سال کے افراد اس رائے سے کم اتفاق کرتے ہیں (56 فیصد)، جبکہ صنفی اعتبار سے خواتین (63 فیصد) مردوں (57 فیصد) کے مقابلے میں زیادہ سمجھتی ہیں کہ مہاجرین کی تعداد زیادہ ہے۔
سیاسی جماعتوں کے اعتبار سے ووٹرز کی رائے میں واضح فرق پایا گیا۔ ووکس کے 96 فیصد اور الیانسا کاتالانا کے 87 فیصد ووٹرز کا ماننا ہے کہ مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ ہے، جبکہ انہی جماعتوں کے 95 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے سرحدی کنٹرول کھو دیا ہے۔ دوسری طرف سی یو پی اور کومنس کے ووٹرز سب سے زیادہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مہاجرین ’’انتہائی قیمتی کردار‘‘ ادا کرتے ہیں (بالترتیب 93 اور 89 فیصد)۔
مہاجرین کے خلاف ’’ضرورت سے زیادہ پروپیگنڈے‘‘ کے دعوے کو مجموعی طور پر 70 فیصد شہری درست مانتے ہیں، لیکن الیانسا کاتالانا کے ووٹرز میں یہ شرح صرف 37 فیصد اور ووکس میں 42 فیصد رہ جاتی ہے۔
مزید برآں، سی یو پی کے 77 فیصد، کومنس کے 74 فیصد، ای آر سی کے 70 فیصد، پی ایس سی کے 69 فیصد، پی پی کے 61 فیصد اور جونتس کے 59 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ ’’مہاجرین کے بغیر کاتالونیا کا مستقبل خراب ہوتا‘‘۔ اس کے برعکس ووکس کے صرف 34 فیصد اور الیانسا کاتالانا کے 25 فیصد ووٹرز اس سے متفق ہیں۔
روایتی اقدار کے حوالے سے سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 67 فیصد شہریوں کو لگتا ہے کہ ’’وہ روایات جو کاتالونیا کی ثقافت کی شناخت تھیں، وہ ختم ہوتی جا رہی ہیں‘‘، جبکہ 53 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ ’’ملک پہلے بہتر طریقے سے چل رہا تھا، لیکن اب اس کی سمت واضح نہیں رہی‘‘۔