مرُری، پاکستان کی تاریخی بیئر برانڈ، اب بیرون ملک برآمد کرے گی
Screenshot
بارسلونا(دوست مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی واحد بڑی شراب ساز کمپنی، مرُری(Murree) جو 1860 میں برطانوی دور میں مری میں قائم ہوئی تھی، اب اپنی پیداوار کو بیرون ملک بھی بیچنے کی اجازت حاصل کر گئی ہے۔ تاہم یہ اجازت صرف غیر مسلم ممالک کے لیے ہے، اور اسلامی ممالک میں اس کی برآمد پر پابندی برقرار رہے گی۔

مرُری کی بیئر کی پیداوار ابتدائی طور پر مری میں ہوتی تھی تاکہ لاہور اور راولپنڈی کے گرمیوں سے بچا جا سکے، تاہم 1930 کی دہائی میں اس کی پیداوار راولپنڈی منتقل کر دی گئی۔ پاکستان میں 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شراب پر پابندی عائد کی گئی، اور تب سے مرُری کو اندرونِ ملک محدود صارفین تک محدود رہنا پڑا۔
مرُری کی پیداوار کو فوجی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور کمپنی کے مرکزی دفاتر راولپنڈی میں فوجی ہیڈکوارٹر کے اندر موجود ہیں۔ کمپنی آٹھ اقسام کی بیئر کے علاوہ، جِن، رم، ووڈکا، برانڈی اور وِسکی جیسی مشروبات بھی تیار کرتی ہے، اگرچہ وِسکی کی پیداوار گنے کی ملاس سے کی جاتی ہے۔

مرُری کی ملکیت باندھارا خاندان کے پاس ہے، جو پارسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، اور آج تیسرے نسل کی قیادت اسفندیار باندھارا کے ہاتھ میں ہے۔ کمپنی کے 1,600 کارکنان میں زیادہ تر مسلمان ہیں، جنہیں پیداواری عمل کے دوران تیار شدہ مشروبات پینے کی اجازت نہیں۔ غیر مسلم شہری محدود اجازت کے ساتھ بیئر خرید سکتے ہیں، جبکہ غیر مسلم سیاح عام طور پر پابندی کا سامنا نہیں کرتے۔

مرُری کی پیداوار اب مالی اعتبار سے بھی مضبوط ہے۔ پچھلے مالی سال میں اس کے ریونیو نے پہلی بار 100 ملین ڈالر سے تجاوز کیا۔ کمپنی کی برآمدات کی اجازت ملنے کے بعد توقع ہے کہ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی منڈی میں بھی اپنا مقام مضبوط کرے گی۔

پاکستان میں شراب کی پیداوار اور فروخت پر سخت کنٹرول برقرار ہے، اور مرُری کے یہ اقدامات ملک کی شراب سازی کی تاریخ میں ایک نیا باب کھول سکتے ہیں۔